ویب ڈیسک —
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی امریکہ کے سرکاری دورے پر منگل کو نئی دہلی سے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ چار روز تک قیام کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن سمیت مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر اعظم کی حیثیت سے نو برس کے دوران مودی کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل سابق بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے 2009 میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا تھا۔
چار روزہ دورے سے متعلق نریندر مودی نے منگل کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میں مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
بھارتی وزیرِ اعظم کے مطابق وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں عالمی یوگا ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کریں گے .وہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے۔
مودی کے اس دورے میں جمعرات کو امریکی کانگریس سے ان کا خطاب بھی شامل ہے۔
امریکہ پہنچنے پر وزیر اعظم مودی کا 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ ریڈ کارپٹ خیرمقدم کیا جائے گا۔وہ 22 جون کو واشنگٹن جائیں گے جہاں ان کا روایتی خیرمقدم کیا جائے گا۔ وہ اسی روز وائٹ ہاؤس میں صدر ِ جو بائیڈن سے ملاقات اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔
بائیس جون کی شام نریندر مودی کو صدر بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن کی جانب سے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا۔وہ ایسے تیسرے رہنما ہوں گے جنہیں موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن یہ اعزاز دے رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور جنوبی کوریا کے صدر یون سُک ایوول کو اسٹیٹ وزٹ اور عشائیے کے لیے مدعو کیا تھا۔
بھارتی وزیرِ اعظم کے مطابق وہ اس دورے کے دوران امریکی تاجروں، بھارتی کمیونٹی سمیت مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے بھی ملیں گے۔
No media source currently available
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس دورے کے دوران امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارت، اقتصادیات، ٹیکنالوجی اور ایجادات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے کے خواہش مند ہیں۔
بھارتی اعلیٰ عہدیداروں نے مودی کے اس دورے سے متعلق کہا ہے کہ دفاعی آلات کی مشترکہ تیاری اور ترقی سے متعلق تمام پہلو وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صدر جو بائیڈن کے درمیان مذاکرات کا حصہ ہوں گے اور توقع ہے کہ دفاعی صنعتی تعاون کے سلسلے میں ایک روڈ میپ دورے کا کلیدی نکتہ ہو گا۔
