اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آباد کاری سے متعلق تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دے۔
اس موضوع پر اقوام متحدہ کے ترجمان کے دفتر سے ایک تحریری بیان جاری کیا گیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 4000 سے زائد نئی بستیوں کے لیے اسرائیل کے منصوبے پر "شدید تشیویش میں مبتلا ہیں اور پریشان” ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی آباد کاری کی سرگرمیوں کو تیز کردے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، گوتیرس نے نشاندہی کی کہ یہ دو ریاستوں پر مشتمل، منصفانہ اور دیرپا امن کی راہ میں بھی رکاوٹ ہیں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع نے کشیدگی اور تشدد کو جنم دیا ہے، اور اسرائیل کے قبضے پر مزید گرفت حاصل ہو جائے گی ۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے قدرتی وسائل کو غصب کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ہے۔
انتونیو گوتریس نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر روک دے اور اس سلسلے میں اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسرائیل ایک بڑی یہودی بستی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فلسطینی اور اسرائیل کی بائیں بازو کی تنظیمیں جیسے Peace Now Movement اس منصوبے پر اعتراض کررہی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی اور یورپی یونین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ زیر بحث اقدام سے دو ریاستی حل کا امکان ختم ہو جائے گا۔
