English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایس۔400 کے معاملے میں ترکیہ اور بھارت کے درمیان دوہرا معیار کیوں؟ پینٹاگون خاموش

القمر

امریکہ وزارت دفاع کی نائب ترجمان سبرینا سنگھ نے کہا ہے کہ ترکیہ اور بھارت کے ایس۔400  خریدنے سے متعلق امریکہ کا متضاد موقف دو مختلف صورتِ حالات کا مرہونِ منت ہے۔

پینٹاگون میں منعقدہ معمول کی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سبرینا سنگھ سے سوال کیا کہ امریکہ نے ایس۔400 دفاعی نظام خریدنے کی وجہ سے ترکیہ کے  خلاف چند  اقدامات اٹھائے لیکن بھارت کے ایس۔400 خریدنے کے جواب میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ کیا آپ  دو مختلف ممالک کے مقابل اس متضاد  طرزِ عمل کے معاملے میں بات کرنا پسند کریں گی؟

سوال کے جواب میں سبرینا نے کہا ہے کہ ہم نے روس کے ساتھ تعاون سے دُور رہنے کے لئے اپنے تمام اتحادیوں اور ساجھے داروں کی  حوصلہ افزائی کی ہے اور ان اتحادیوں میں ترکیہ اور بھارت بھی شامل ہے۔ میرے خیال میں درپیش صورتِ حالات دو الگ اور ایک دوسرے سے نہایت مختلف صورتیں ہیں۔

واضح رہے کہ روس مشترکہ اقدامات کر کے بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے اور 15 ستمبر 2022 کو اس نے ایس۔400 میزائل دفاعی سسٹم بھی بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔

امریکہ نے روس اور بھارت کے درمیان ایس۔400 کی فراہمی کے باوجود، ترکیہ کے خلاف نافذ کردہ ،پابندی قانون CAATSA   کو نئی دہلی انتظامیہ کے خلاف فعال نہیں کیا تھا۔

بھارت اور روس کے درمیان 2019 میں 3 بلین ڈالر مالیت کا ‘آکولا کلاس آبدوز’ سمجھوتہ بھی طے ہوا تھا۔ پروگرام کے مطابق یہ آبدوز 2025 میں بھارت کے حوالے کر دی جائے گی۔

دوسری طرف یورپی یونین کی پابندیوں کے باوجود بھارت روسی پیٹرول کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ علاوہ ازیں بھارت نے روس سے ریفائن پیٹرول مصنوعات کی خرید میں بھی ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔

یہ صورتحال یورپی یونین کے روس پر انرجی پابندیاں لگانے لیکن بھارت کے لئے ان پابندیوں میں شگاف ڈالنے سے متعلق تنقیدوں  کا سبب بن رہی ہے تاہم امریکہ انتظامیہ  اس معاملے میں خاموشی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے