نوشہرہ: پشاور کے رہائشی ٹیکسی ڈرائیور کے لرزہ خیز اندھے قتل کیس کامعمہ حل، کہانی ٹیکسی چھینے کا شاخسانہ نکلا۔
ماسٹرمائنڈ سمیت 2 ملزمان گرفتار، چھینی گئی موٹر کار برآمد، ملزمان کا اعتراف جرم۔1-6-23کو احسان اللہ ساکن باجوڑ حال پشاور نے پولیس کو رپوٹ درج کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا طاہر اللہ ٹیکسی ڈرائیور ہے۔
آج صبح گھر سے محنت مزدوری کیلئے نکلا تھا لیکن واپس نہیں آیا۔جس پر فوری طور پر رپورٹ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی۔
ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ناصر محمود نے ٹیکسی ڈرائیور کی پراسرار گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئےSP انوسٹی گیشن کمال حسین خان کی سربراہی میں عجب خان DSP اکوڑہ اور وقاص خان SHO اکوڑہ پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دے کر جلد از جلد کیس کے اصل حقائق کو منظر عام پر لانے کا ٹاسک سونپ دیا۔
بظاہر تو یہ کیس اغواء کا لگ رہا تھا، لیکن تفتیشی ٹیم نے شواہد اکھٹا کرکے مختلف زاویوں سے تفتیش کی، جدید طریقہ تفتیش سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم تک رسائی حاصل کی گئی، مرکزی ملزم عابدین عرف شینا ولد گل پذیر ساکن شانگلہ حال جہانگیرہ کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔
ملزم سے سرسری تفتیش کرنے پر ملزم نے ساتھیوں کے نام اُگل دئیے۔جن کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا، ملزم کے ساتھیوں کی شناخت عثمان ولد شیر زادہ ساکن جہانگیرہ اور امجد علی ولد فتح محمد ساکن ایسوڑی اکوڑہ سے ہوئی۔
ملزمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کو پشاور سے جہانگیرہ کیلئے کرایہ پر بک کیا۔جہانگیرہ پہنچنے پر نشہ اور جوس پلا کر اُسے بہوش کیا اور پھر قتل کیا، لاش کو ویرانے میں ایک کنواں میں پھینک دی، ملزم کی نشاندہی پر چھینی گئی موٹر کار سوات سے برآمد کر لی گئی۔
ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے عوام نے پولیس کی جانب سے اندھے قتل کیس کو ٹریس کرنے اور سفاک ملزمان کی گرفتاری کو بے حد سراہا۔
