ترکیہ کے سویڈن کی نیٹو رکنیت کے لئے گرین سگنل دینے کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں سُنائی دے رہی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو کرنٹ نیوز کے طور پر پیش کیا ہے۔
بلوم برگ نے لکھا ہے کہ ” ترکیہ نے ،اتحاد کی مضبوطی کی خاطر، سویڈن کی نیٹو رکنیت کے ساتھ تعاون قبول کر لیا ہے”۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی خبر میں لکھا ہے کہ ” یہ قدم ، روس کے خلاف تشکیل پاتے بلاک کی تکمیل کے حوالے سے، نہایت اہمیت کا حامل ہے”۔
نیویارک نے کہا ہے کہ ” یہ فیصلہ ، صدر ایردوان کی طرف سے ترکیہ کے یورپی یونین رکنیت مرحلے میں پیش رفت کی طلب کے بعد ، سامنے آیا ہے۔
سویڈن کے سرکاری ٹیلی ویژن ایس وی ٹی نے کہا ہے کہ ترکیہ کی منظوری کے بعد نیٹو رکن بننے سے سویڈن کی 200 سالہ غیر جانبدارانہ پالیسی ختم ہو جائے گی۔
جرمن روزنامے بلڈ نے لکھا ہے کہ ” صدر ایردوان نے سویڈن کی نیٹو رکنیت کا راستہ کھول دیا ہے”۔
انگلینڈ کے سکائی نیوز ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ اسٹالٹن برگ نے صدر ایردوان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
روزنامہ دی گارڈیئن نے اپنی خبر پر "ترکیہ نے سویڈن کی رکنیت درخواست کے ساتھ تعاون قبول کر لیا” کی سرخی لگائی ہے۔
یونانی ذرائع ابلاغ نے اپنی خبر کے لئے "ایردوان نے نیٹو کے لئے گرین سگنل دے دیا” کی سرخی استعمال کی ہے۔
اٹلی ، اسپین اور بالقان کے ذرائع ابلاغ میں بھی اس خبر کو وسیع جگہ دی گئی ہے۔
