کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بلوچستان کو ایک بار پھر بدامنی کی طرف د ھکیلنے کی سازشیں ہورہی ہے پرامن علاقے ژوب ،چمن ،خضدار،دکی ،لورالائی وتربت اورگوادر سمیت مختلف علاقوں میں حالات خراب کیے گیے ہیں۔
مولانا عبد الحق ہاشمی نے کہا کہ مذاکرات بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال ،آپریشن مسائل کا حل نہیں ۔امن کے قیام میں سیکورٹی فورسزوحکومت ناکام ہوئی ہیں بجٹ میں سیکورٹی کیلئے بھاری رقم مختص کیا جاتاہے لگتاہے وہ بجٹ سیکورٹی کے تحفظ کیلئے رکھے جاتے ہیں ۔حکومت ،ادارے وسیکورٹی فورسزسنجیدگی سے پرامن علاقوں کو دہشت گردی بدامنی سے بچاتے ہوئے فوری امن قائم کریں ۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مرکزی امیر سراج الحق کی قیادت میں امن کے قیام ،سلگتے مسائل سے نجات اور یکجہتی واتحاد کیلئے 22جولائی کوکوئٹہ میں ”قومی امن جرگہ ”منعقد کریگی جس میں بلوچستان بھر کے قبائلی عمائدین ،علمائے کرام سیاسی قیادت شرکت کریں گے ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت سنجیدگی سے علاقے کے قبائلی عمائدین ،علمائے کرام اور سیاسی لیڈرزکو اعتماد میں لیکر بات چیت کے ذریعے علاقوں سے شرپسندوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں ۔طاقت کا استعمال بلوچستان میں جب بھی اور جہاں بھی ہواہے حالات مزید خراب،بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان کے عوام کے پاس نہ امن ہیں نہ روزگار اور ہی ہی کاروبارکے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں ۔بلوچستان میں حکومت ،اپوزیشن اورانصاف نام کی کوئی چیز نہیں ۔ترقی وخوشحالی ،امن بلوچستان کے عوام پرحرام کر دیے گیے ہیں ۔
