نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ چین 2035 تک، لاطینی امریکہ اور پورے یورپ تک مار کی صلاحیت والےمیزائلوں کے لئے، 1500 جوہری جنگی وار ہیڈ کا مالک بن جائے گا۔
اسٹالٹن برگ نے ویلنیوس میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر منعقدہ پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیئے۔
چین کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس میں اور خاص طور پر نیٹو کے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ مذاکرات میں چین کے خلاف اہم پیغامات جاری کئے گئے ہیں۔
اسٹالٹن برگ نے عسکری صلاحیت کے شعبے میں چین کی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ سلامتی ایک علاقائی نہیں عالمی معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ تو ہمیں معلوم ہی ہے کہ چین 2035 تک، شمالی امریکہ اور پورے یورپ تک مارکی صلاحیت والے میزائلوں کے لئے، 1500 جوہری وار ہیڈ بنا لے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین ہمارے کس قدر قریب آ گیا ہے”۔
اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ یہی نہیں چین افریقہ اور انٹارکٹکا جیسے دنیا کے متعدد مقامات تک پہنچ گیا ہے، حساس انفراسٹرکچر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور سائبر شعبے میں بھی داخل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ نیٹو ،انڈو۔پیسیفک کے اتحادیوں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ مل کر، بحری سلامتی، غلط خبر رسانی کے خلاف جدوجہد اور سائبر جیسے موضوعات پر کام کر رہا ہے۔
