یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے کے معاملے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کا بھی کام کرنا ضروری ہے۔
زلنسکی نے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکہ کے صدر جو بائڈن کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم، یوکرین کی نیٹو رکنیت پر، کسی کے ساتھ مول تول نہیں کریں گے۔ یوکرین کی نیٹو رکنیت ملکی سلامتی کی صورتحال پر مبنی ایک سیاسی فیصلہ ہو گا”۔
زلنسکی نے کہا ہے کہ "ہمیں، اپنے اتحادیوں سے "مضبوط دفاعی حمایت” ملی ہے اور یہ چیز ہمارے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ہم کسی بھی حیثیت کی خاطر ملکی زمین کو گروی نہیں رکھیں گے اور ہمارے اتحادی ہمارے موقف کو نہایت واضح شکل میں جانتے ہیں "۔
انہوں نےصدر ایردوان کے یوکرین۔نیٹو کونسل اجلاس میں اناج کاروائیوں کو ایجنڈے پر لانے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ صدر ایردوان ترکیہ کی اناج کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن خطرات بھی موجود ہیں ، انتونیو گٹرس کے بھی اس موضوع پر کام کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ کیونکہ ان کے روسی فریق کے ساتھ سمجھوتے ہیں”۔
صدر ولادی میر زلنسکی نے کہا ہے کہ "یوکرینی فریق نے کوئی بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہم کسی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال رہے۔ ہم نے روس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہم نے اقوام متحدہ اور ترکیہ کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور ترکیہ نے روس کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔ اس راہداری کی ضرورت ہے اور یہ راہداری مفید ثابت ہو رہی ہے”۔
