روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کی نیٹو رکنیت اس کی سلامتی میں اضافہ نہیں کرے گی۔
روس کے سرکاری چینل روسیہ 24 کے لئے جاری کردہ بیان میں صدر پوتن نے کہا ہے کہ "یوکرین کو فراہم کئے گئے لانگ بیرل میزائلوں نے نقصان ضرور پہنچایا ہے لیکن جنگ کے علاقے میں کوئی اہم تبدیلی نہیں کر سکے۔ یہی بات غیر ملکی ٹینکوں اور پیادہ جنگی گاڑیوں پر بھی صادق آتی ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ ” صرف 4 جولائی سے کل شام تک ہم نے 311 ٹینک تباہ کئے ہیں اور ان میں سے اکثریت ، میرے خیال میں ایک تہائی، لیپرڈ ٹینکوں سمیت مغربی ساختہ تھی۔ اسلحے کی نئی ترسیل یوکرین کے لئے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دے گی اور جھڑپوں کو مزید بھڑکا دے گی۔ "۔
پوتن نے کہا ہے کہ "یوکرین کی ممکنہ نیٹو رکنیت روس کی سلامتی کے حوالے سے خطرات پیدا کر دے گی لیکن یوکرین کی سلامتی میں بھی کوئی اضافہ نہیں کرے گی بالکل برعکس دنیا زیادہ غیر محفوظ ہو جائے گی۔ یہی نہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اضافی تناو کا راستہ ہموار کر دے گی”۔
صدر پوتن نے کہا ہے کہ” یوکرین کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور اس کی صرف ایک حد ہے اور وہ یہ کہ ایک ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالاجائے”۔
انہوں نے یوکرینی اناج کی ترسیل کے لئے طے پانے والے سمجھوتے پر عمل درآمد نہ ہونے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ اگر ہم سے کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں تو ہم بھی فوراً سمجھوتے میں شامل ہو جائیں گے۔ پہلے سمجھوتے کی میعاد میں توسیع اور پھر کھوکھلے وعدے روس کے لئے موزوں نہیں ہیں”۔
صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا بھیجا گیا مراسلہ تاحال مجھ تک نہیں پہنچا۔ سمجھوتے کے اختتام میں ابھی چند دن باقی ہیں۔ ہم سوچیں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے”۔
