نئی دہلی: بھارتی ریاست منی پور میں ڈیڑھ ماہ سے نسلی فسادات جاری ہیں جس پر وزیراعظم نریندر مودی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی تھی لیکن اب 2 مسیحی خواتین کو برہنہ گھمانے کے واقعے پر بالآخر یہ خاموشی توڑ دی۔
بھارتی اخبار ٹیلی گراف میں ایک کارٹون شائع ہوا ہے جس میں ایک مگر مچھ کو دکھایا گیا جو نسلی فسادات کے آغاز کے دن یعنی 3 مئی سے خاموش ہے لیکن 78 ویں دن اچانک آنسو بہانے لگتا ہے۔
اخبار نے اس کارٹون کے ساتھ خبر لگائی ہے کہ آخر کار وزیراعظم نریندر مودی نے منی پور فسادات پر اپنی طویل خاموشی توڑ دی اور منی پور میں دو مسیحی خواتین کو برہنہ گھمانے پر مذمتی بیان دے ڈالا۔
وزیراعظم مودی اس معاملے پر 3 مئی سے بالکل چپ سادھے ہوئے تھے۔ خواتین کے ساتھ اس نازیبا سلوک پر عالمی میڈیا پر ہونے والی تنقید پر مذمت کرنے پر مجبور ہوگئے،تاہم مودی سرکار کی اس مذمت کو عوام نے مسترد کردیا اور اسے مگر مچھ کے آنسو قرار دیا۔
