English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ای بائیکس کی غیرمعیاری بیٹریوں سے امریکہ میں آتش زدگی کے واقعات میں اضافہ

جون میں نیو یارک کے چائنا ٹاؤن میں صبح سویرے ہونے والے دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی جس نے نیو یارک سٹی کی ایک دکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جو موٹر سائیکلوں اور ان کی غیر معیاری لیتھیم آئن بیٹریوں سے بھری ہوئی تھی۔

جلتے ہوئے اسٹور کے اوپر اپارٹمنٹس میں سوئے ہوئے چار افراد دھوئیں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

جیسے جیسے ای-بائیکس کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کے باعث آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔

صارفین کے وکلا اور فائر ڈپارٹمنٹس، خاص طور پر نیویارک سٹی میں امریکی کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حفاظت کے قومی معیارات قائم کرے۔

ایسی درآمدات کو ضبط کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جو سرحد پر ضوابط کی تعمیل نہیں کرتیں۔

چائنا ٹاؤن میں ہونے والے واقعہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز نے کہا تھا کہ ہم کئی ماہ سے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ وفاقی سطح پر حقیقی کارروائی کی ضرورت ہے۔ تقریباً 65 ہزار، ای-بائیکس ان گلیوں میں دندنا رہی ہیں۔

چائنا ٹاؤن میں دکان کے باہر تباہ شدہ بائیکس کا ڈھیر۔

چائنا ٹاؤن میں دکان کے باہر تباہ شدہ بائیکس کا ڈھیر۔

امریکہ میں کسی بھی دوسری جگہ سے زیادہ نیو یارک سٹی، بیٹری سے لگنے والی آگ کا مرکز ہے۔ اس سال اب تک وہاں 100 بار ایسی آگ لگ چکی ہے جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جو کہ پچھلے سال کی چھ ہلاکتوں سے دگنی تعداد ہے۔

قومی سطح پر کمیشن کو بیٹری سے متعلق آگ کے 200 سے زیادہ واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔ پچھلے دو سالوں کے دوران 39 ریاستوں میں 19 اموات کا الزام "مائیکرو موبیلیٹی ڈیوائسز” کو دیا گیا ہے جن میں بیٹری سے چلنے والے اسکوٹر، سائیکلیں اور ہوور بورڈز شامل ہیں۔

نیویارک کے دو سینیٹرز، ڈیموکریٹس چک شومر اور کرسٹن گلیبرانڈ نے گزشتہ ماہ قانون سازی متعارف کرائی تھی جو ای بائیکس اور ان کو پاور دینے والی بیٹریوں کے لیے لازمی حفاظتی معیارات طے کرے گی۔

چک شومر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں غیر معیاری بیٹریوں کا سیلاب آ گیا ہے جس سے آگ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

سپر بائک نے ریس میں فائٹر جیٹ سمیت سپورٹس کاروں کو پچھاڑ دیا





please wait



No media source currently available

اس سال کے شروع میں نیو یارک سٹی نے فوری طور پر مقامی قوانین کا ایک وسیع پیکج نافذ کیا جس کا مقصد غیر معیاری بیٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا تھا۔ ان میں ایسی ای-بائیکس اور بیٹریوں کی فروخت یا کرائے پر دینے پر پابندی بھی شامل ہے جو حفاظتی معیارات کو پورا کرنے کے طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

نئے قوانین بیٹریوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا استعمال شدہ یونٹس سے نکالے گئے لیتھیم آئن سیلز سے بنی ری فربش بیٹریوں کو فروخت کرنے کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

دریں اثنا، نیویارک شہر کے حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہیں شہر میں ای-بائیک چارجنگ اسٹیشنز کے لیے 25 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ موصول ہوئی ہے جس سے فائر مارشلز کو امید ہے کہ آگ لگنے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

نیو یارک سٹی کی فائر کمشنر

نیو یارک سٹی کی فائر کمشنر

نیویارک سٹی فائر کمشنر لورا کاوناگ نے کہا کہ یہ عام آگ نہیں ہے۔ بیٹریاں سلگتی نہیں ہیں بلکہ پھٹ جاتی ہیں۔

اُن کے بقول "ایک بار جب ان میں سے کوئی ایک بیٹری پھٹتی ہے، تو وہاں آگ کا حجم بہت بڑا حجم ہوتا ہے، اکثر اس قدر زیادہ کہ اس گھر میں موجود کوئی فرد باہر نہیں نکل سکتا اور فائر فائٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

ایک ایسا ہی واقعہ اپریل میں تھا جس میں دو بہن بھائی، ایک 7 سالہ لڑکا اور اس کی 19 سالہ بہن، کوئینز میں اسکوٹر کی بیٹری میں آگ لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے