روس وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہرووا نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی نے روس کے شہری انفراسٹرکچر پر دہشت گردانہ حملے کر کے امریکہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
زاہرووا نے جاری کردہ تحریری بیان میں یوکرین کی طرف سے روس کے دارالحکومت ماسکو پر ڈرون حملوں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "زلنسکی نے شہری انفراسٹرکچر پر حملے کر کے واشنگٹن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ کے صدر بائڈن نے، "دہشت گردی کے حکومتی اسپانسر” کے تصوّر سے جو جال بُنا ہے اس میں خود ہی پھنس رہے ہیں”۔
زاہرووا نے کہا ہے کہ یوکرین مذکورہ حملے کر کے زیادہ امداد حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے۔ زلنسکی مزید مدد کے لئے امریکہ کو بلیک میل کر رہے ہیں”۔
حملوں سے متعلق اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی کہا ہے کہ ضروری تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں۔ خطرہ موجود ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں ہے۔ ضروری حفاظتی اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں صرف فوج ہی ماہرانہ جواب دے سکتی ہے”۔
واضح رہے کہ روس وزارت دفاع نے 30 جولائی کو ماسکو پر یوکرین کے ڈرون حملوں کا اعلان کیا تھا۔ حملوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا تاہم ڈرون طیاروں میں سے ایک کے ماسکو سِٹی ٹریڈ سینٹر کی فلک بوس عمارت سے ٹکرانے کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔
یوکرین نے 24 اور 28 جولائی کو بھی ماسکو پر ڈرون حملے کئے تھے جن میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔
