ہریانہ :بھارتی رتیاست ہریانہ میں فرقہ وارانہ فسادات نے شدت اختیار کر لی،ہندو مسلم فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے لے مطابق نئی دہلی سے 75 کلومیٹر جنوب میں واقع مسلم اکثریتی ضلع نوح میں ایک ہندو مذہبی جلوس پر پتھراؤ کیا اور کاروں کو آگ لگا دی،آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کے حملے گروگرام کے کچھ حصوں کیے گئے جو کہ دارالحکومت کا ایک سیٹلائٹ شہر اور ایک اہم کاروباری مرکز ہے جہاں نوکیا، سام سنگ اور دیگر ملٹی نیشنلز کے انڈین ہیڈ کوارٹر ہیں۔
زرائع کے مطابق تقریباً 200 لوگوں کے ہجوم نے لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کرتے ہوئے کئی گوشت کی دکانوں کو لوٹ لیا اور ہندو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے ایک ریستوران کو آگ لگا دی۔
ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تشدد میں چھ افراد ہلاک اور اب تک 116 کو گرفتار کیا گیا ہے۔قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہم عوام کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں ۔
ریاستی پولیس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو سیکورٹی اہلکار تھے جو نوح میں بدامنی پر قابو پانے میں مدد کے لیے جا رہے تھے۔نئی دہلی میں پولیس نے کہا کہ انہوں نے احتیاطی اقدام کے طور پر کچھ محلوں میں سیکورٹی بڑھا دی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تناؤ سب سے پہلے اس وقت بھڑک اٹھا جب ممتاز ہندو قوم پرست کارکن مونو مانیسر، جو کہ بنیاد پرست دائیں بازو کے گروپ بجرنگ دل کے رکن ہیں، نے اعلان کیا کہ وہ نوح میں پیر کے جلوس میں شرکت کریں گے۔

