صدر رجب طیب ایردوان نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کال کی۔
بات چیت کے دوران صدر ایردوان نے کہا کہ وہ ملائیشیا کے وزیر اعظم ابراہیم کی دعوت پر عنقریب اس ملک کا دورہ کریں گے۔
اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ترکیہ اور ملائیشیا کے تعلقات ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد پر مزید آگے بڑھے ہیں، ایردوان نے یہ بھی اظہار کیا کہ وہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی طرف سے ملائیشیا میں تجارتی دفتر کھولنے کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
دفاعی صنعت میں باہمی تعلقات اب سرعت سے رواں دواں ہونے کا اظہار کرنے والے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم ملائیشیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جلد از جلد اس شعبے میں مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔
قرآن پر حملوں (ڈنمارک اور سویڈن میں) کے خلاف ایک مضبوط اور پرعزم مشترکہ موقف قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ایردوان نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں کیے گئے فیصلے اس سلسلے میں اہم ہیں۔
فتح اللہ کی دہشت گرد تنظیم کو ملائیشیا میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیے جانے کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے صدر ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ بطور ترکیہ ہم اس سلسلے میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ابراہیم سے بھرپور حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔
