English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد، راہل گاندھی بحث کا آغاز کریں گے

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف ایوانِ زیریں (لوک سبھا) میں حزبِ اختلاف کی جمع کرائی گئی تحریکِ عدم اعتماد پر آج سے بحث کا آغاز ہو رہا ہے۔

لوک سبھا میں بحث کا آغاز حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کریں گے جو حال ہی میں اپنی پارلیمانی رکنیت کی بحالی کے بعد ایوان میں آئے ہیں۔

منگل کو پارلیمان میں بحث وزیرِ اعظم نریندر مودی کی عدم موجودگی میں ہونے کا امکان ہے۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دن 12 بجے شروع ہونے والے لوک سبھا کے اجلاس سے قبل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں پارلیمانی کارروائی کے حوالے سے حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔

حزبِ اختلاف کی 26 جماعتوں کے اتحاد نے ریاست منی پور میں نسلی فسادات سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لوک سبھا میں جمع کرائی تھی۔ تاہم پارلیمان سے اس تحریکِ کی منظوری کا امکان نہیں۔




بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق حزبِ اختلاف کی جانب سے ایوان میں منی پور میں نسلی فسادات پر بحث کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حکومت نے اس پر حامی تو بھر لی تھی کہ وہ ایوان میں اس اہم معاملے پر بحث کرائے گی۔ لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی پارلیمان میں اس مسئلے پر خطاب نہیں کریں گے۔

حزبِ اختلاف کے مطالبات میں یہ شامل تھا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی منی پور کے نسلی فسادات پر لوک سبھا میں خطاب کریں۔

لوک سبھا میں تحریکِ عدم اعتماد پر حکومت کے پانچ وزرا اور پانچ دیگر بی جے پی ارکان اظہارِ خیال کریں گے۔

حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ منی پور میں 1993 اور 1997 میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے، لیکن اس وقت بھی پارلیمان میں کوئی بیان نہیں دیا گیا تھا۔


فائل فوٹو؛

فائل فوٹو؛

حزبِ اختلاف کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت کی ایک ریاست میں نسلی فسادات سے 170 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیکڑوں شہری زخمی ہوئے ہیں جب کہ کئی ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان حالات میں وزیرِ اعظم کے لیے اس سے زیادہ توجہ طلب کوئی معاملہ نہیں ہے۔

خیال ہے کہ نریندر مودی اپنی وزارتِ عظمی میں 2018 میں بھی تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس وقت اس تحریک کے حق میں 126 ووٹ ڈالے گئے تھے جب کہ 325 ووٹوں سے اسے مسترد کیا گیا تھا۔

اس وقت بھارت کی لوگ سبھا میں 570 نشستیں جب کہ ایوان میں اکثریت کے لیے 270 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

بی جے پی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے حکمران اتحاد کو ایوان میں 332 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جب کہ دو دیگر پارٹیوں اڑیسہ کی حکمران جماعت بجو جنتہ دل اور آندراپردیش کی حکمران یوجنا سرمیکا ریتھو کانگریس پارٹی کے 34 ارکان بھی حکمران اتحاد کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس طرح تحریکِ عدم اعتماد کے خلاف 366 ووٹ ملنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی متحدہ حزبِ اختلاف کے ارکان کی مجموعی تعداد 142 ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے