English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں حملے روکنا ہماری ذمہ داری نہیں: افغان طالبان

افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر حملوں کو روکنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان کو اپنی امن و امان کی صورتِ حال پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور اس کا حل اپنے گھر میں تلاش کرنا چاہئے۔

ذبیح اللہ مجاہدنے بدھ کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ” پاکستان میں حالیہ افسوس ناک واقعات کے بعد ایک بار پھر پاکستانی حکام نے اپنے ملک کی سیکیورٹی مضبوط کرنے کے بجائے ان واقعات کی ذمہ داری افغان عوام پر عائد کی ہے۔امارت اسلامیہ افغانستان یہ الزامات مسترد کرتی ہے۔”

طالبان افغانستان کے لیے ‘اماراتِ اسلامیہ افغانستان’ کا نام استعمال کرتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان طویل جنگوں سے نکلا ہوا ملک ہے اور کسی بھی ملک خصوصاََ پڑوسی ممالک میں ہرگز بدامنی نہیں چاہتا۔ افغانستان اپنی سر زمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نےمزید کہااس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ افغانستان خطے کے ہر ملک کی سیکیورٹی کی ناکامی کا ذمہ دار ہے۔

افغان طالبان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دو روز قبل پشاور میں ایک گرینڈ جرگے سے خطاب میں، بقول ان کے، ’افغان سر زمین پر کالعدم تنظیموں کی آزادانہ سرگرمیوں‘ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

فوجی سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ افغان مہاجرین کو پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا ہوگا۔

پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بعد حکومت اور فوج کی جانب سے افغانستان پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔

بارہ جولائی کو ژوب چھاؤنی پر دہشت گردوں کے حملے میں نو سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی فوج نے اس کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جب کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ ژوب کینٹ پر حملہ کرنے والے تین دہشت گردوں کا تعلق افغان صوبے قندھار سے تھا۔




دفترِ خارجہ نے افغان حکام سے کہا تھا کہ وہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی لاشیں وصول کرلے۔ دفتر خارجہ نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان سرزمین اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

بعد ازاں افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوند نے پانچ دن قبل جمعے کو قندھار میں نمازِ جمعے کے خطبے کے دوران کہا کہ امارت اسلامی افغانستان کسی بھی طور پر کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں دے سکتی۔

ہفتے کو طالبان کی عبوری حکومت کے وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے کہا تھا کہ طالبان کے سپریم لیڈر نے جہاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے فرمان کی اطاعت سب کے لیے لازم ہے۔

‘طالبان کا 18 پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ ‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کو اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران داعش کے 18 ایسے ارکان ہلاک ہوئے ہیں جو پاکستانی شہری تھے اور وہ مختلف حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث تھے۔

طالبان ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں سے درجنوں افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کے تمام تر ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ لیکن اس کے لیے پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ افغان حکومت نے حفاظتی انتظامات بہتر کیے ہیں جس کے نتائج سامنے ہیں۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت پاکستان میں کسی قسم کے حملے کی حمایت نہیں کرتی اور نہ کسی کو اس بات کی اجازت دی جا سکتی کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔

انہوں نے کہا ” پاکستان کے اندر حملوں کی روک تھام ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ یہ پاکستان کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے جس کے لیے پاکستان اپنے بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے اپنے لوگوں اور عالمی توجہ ہٹانے کے لیے افغانستان پر الزامات عائد نہ کریں۔

ان کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے فی الوقت کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے