چین کے وزیر دفاع ‘لی شینگ فو ‘ نے دورہ روس کے دوران حالیہ دور میں باہمی عسکری تعلقات کے فروغ پر ممنونیت کا اظہار کیا اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان تعاون میں اضافے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
گلوبل ٹائمز کی خبر کے مطابق لی نے روس میں منعقدہ 11 ویں بین الاقوامی ماسکو سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔
خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ چین۔ روس عسکری تعلقات "اتحاد بنانے "، "محاذ کھولنے” اور "تیسرے فریق کو ہدف بنانے” سے پرہیز کے اصولوں پر استوار ہیں اور اس حوالے سے دیگر ممالک کے درمیان عسکری تعلقات کے لئے ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
لی نے ، مارچ میں وزارت دفاع کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اپنے روسی ہم منصب سرگے شوئے گو کے ساتھ تین ملاقاتیں کرنے اور ان کے علاوہ کسی بھی وزیر دفاع کے ساتھ اس قدر قریبی رابطے میں نہ ہونے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "دونوں ملکوں کی مسلح افواج بھی بالکل ہماری حکومتوں کی طرح گہرے رابطے کی حالت میں ہیں۔ اس دورے کے دوران ہم روس کے وزیر دفاع کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں”۔
روس۔یوکرین جنگ کی وجہ سے مغرب کے ساتھ تناو کے دور میں چین اور روس کے درمیان فوجی تعاون پر تنقیدوں کے جواب میں وزیر دفاع ‘لی شینگ فو’ نے کہا ہے کہ "ہمیں یقین ہے کہ بیجنگ اور روس کے درمیان شفاف عسکری تعلقات عالمی امن اور استحکام میں کردار ادا کریں گے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "چین اور روس ،شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں، سلامتی کے شعبے میں کاروائیوں میں اضافہ کرنے اور تنظیم کے نئے اراکین ‘ایران اور بیلاروس’ کے ساتھ دفاعی تعاون گہرا کرنے پر تیار ہیں”۔
