استنبول: اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے کہا ہے کہ مراکش میں مشاورتی کونسل کے سپیکر کا دورہ اسرائیل کا اعلان فلسطینی قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے ۔
حماس کی بیرون ملک قیادت کے رکن ابو زہری نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم مراکشی عہدیدار کے دورہ اسرائیل کومسترد کرتے ہیں، ان کا یہ دورہ فلسطینی قوم اور قضیہ فلسطین کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہماری قو کے لئے ایک چیلنج اور 3 اشتعال انگیزی، قابض ریاست کی حمایت اور اس کے جرائم کو قانونی حیثیت دینے، یروشلم کے مسئلے پر ایک وار اور صیہونی دشمن کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ قابض پارلیمنٹ (کنیسٹ)کے سپیکر امیر اوہانہ کی دعوت پرکیا جا رہا ہے ہے جہاں وہ کنیسٹ کے ارکان اور اسرائیلی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔
دونوں ممالک نے 10 دسمبر 2020 کو اپنے سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان کے بعد سے میارہ اسرائیل کا دورہ کرنے والی مراکش کی پہلی اہم سیاسی عہدیدار ہیں۔mk
