کراچی: جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کی شدید مذمت اور اسے عوام کے منہ سے روٹی کا اخری نوالہ چھیننے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کا اصل کام انتخابات کراکے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا ہے مگر وہ اصل کام کرنے کے بجائے باقی سب کام کر رہی ہے جو کہ آئین سے انحراف اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے، قیمتوں میں اضافہ کا ان کو ہرگز مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔
پاکستانی عوام کی یادداشت بہت کمزور ہے، اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی جماعتیں اور سیاستدان انہیں بیوقوف بناتے ہیں، پاکستان میں عوام کس دور میں خوشحال ہوئے ہیں، ہر دور میں مہنگائی اس کی آمدن سے زیادہ ہی رہی اور انہیں زندہ رہنے کے لئے جان کے لالے پڑے رہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی،یہ بدترین ظلم ہے،بے حس حکومتیں مسلسل عوام کا معاشی قتل کررہے ہیں، غریبوں کے جیب پر ڈاکہ ڈال کر عوام کی کمر توڑ دی گئی ہے۔
عوام کو بغاوت پر مجبور کرنے کی بجائے پٹرول قیمتوں میں اضافہ واپس لیکر عوام کو ریلیف دیا جائے، بیرحم اشرافیہ اپنے مراعات ختم کرے۔
حکومت مفت پٹرول، مفت بجلی ، مفت گیس اور ججز، جرنیلوں، سیاستدانوں، اشرافیہ اور افسر شاہی کی مراعات کم کیوں نہیں کرتی؟کب تک عوام یہ ظلم برداشت کریں گے؟ حکومت خود پے درپے ناقابل برداشت مہنگائی سے حالات سول نافرمانی کی طرف لے جارہی ہے۔
صوبائی امیر نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ اب غریب عوام کی سواری موٹرسائیکل کیلئے پیٹرول پمپ پر پچاس یا سو روپے کا پیٹرول ملنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔
عوام اس مہنگائی سے تنگ آچکی ہے لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں ، عوام کو اب ان ڈاکووں چوروں لٹیروں اور مافیا کے خلاف نکلنا پڑے گا ورنہ یہ ظالم اور سفاک بے حس حکمران عوام کوقبر تک پہنچاکرہی دم لیں گے۔
کبھی بجلی کے نرخوں میں تو کبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے لیکن ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ پہلے سے مفلوک الحال غریب عوام کیسے جان لیوا مہنگائی کو برداشت کریں گے،غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔
مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان سے عام آدمی دفن ہوجائے گا۔ ڈیڑھ ماہ کی حکومت نے فی لٹر پٹرول پر 61روپے تک اضافہ کرکے بجلی بلوں،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ڈسے ہوئے عوام کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
اب تو بجلی کے بلوں کے ستائے عوام کی چیخ بھی نہیں نکلتی اب 331 روپے فی لیٹر پٹرول کون ڈلوائے گا؟اس ملک میں چاہے فوجی یا جمہوری حکومت ہو، عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کچھ نہیں،سارے پیکیجز سرمایہ داروں اور حکمرانوں کو دیے جاتے ہیں۔
صوبائی امیر نے پرزور مطالبہ کیا کہ نگراں حکومت مہنگائی میں اضافہ کرنے کی بجائے انتخابات کروانے پر توجہ دے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ فی الفور واپس لیکر عوام کو ریلیف دیا جائے بصورت دیگر جماعت اسلامی عام آدمی کے حقوق اور مہنگائی کیخلاف گورنرہاسز کے بعد اقتدار و طاقت کا اصل مرکز راولپنڈی و اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی
