English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی رہنما روس کیخلاف کھڑے ہوں، کوئی قوم نئے چیلنجز کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتی، جوبائیڈن

القمر

نیویارک: امریکا کے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔

نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ بطور امریکی صدر اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہوں، عالمی تنازعات سے ایک ارب کے قریب آبادی متاثر ہو رہی ہے، کوئی بھی قوم آج کے چیلنجوں کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا تمام لوگوں کے لیے ایک زیادہ محفوظ، زیادہ خوشحال، زیادہ مساوی دنیا چاہتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا مستقبل آپ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چین کے ساتھ ان مسائل پر بھی مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں ترقی کا انحصار مشترکہ کوششوں پر ہے۔

امریکی صدر نے سعودی عرب اور اسرائیل کے ذریعے بھارت کو یورپ سے جوڑنے کے لیے ایک نئے اعلان کردہ ریل منصوبے کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح اسرائیل کا اپنے ہمسایوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نارملائزیشن اور اقتصادی رابطہ مثبت اور عملی اثرات مرتب کر رہا ہے، یہاں تک کہ جب ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کے لیے انتھک محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بائیڈن نے افریقی یونین (اے یو) اور مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری ایکواس (ECOWAS) کی حمایت کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ نائجر اور گیبون میں حالیہ بغاوتوں کے خلاف سخت رد عمل دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان اقدار سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جو ہمیں مضبوط بناتی ہیں، ہم جمہوریت کا دفاع کریں گے جو دنیا بھر میں ہمیں درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔بائیڈن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کثیر القومی ہیٹی فورس کو اختیار دینے پر زور دیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ہیٹی میں سلامتی کی بحالی میں مدد کے لیے ایک کثیر القومی فورس کو اختیار دے۔

انہوں نے فورس کی قیادت سے متعلق رضامندی پر کینیا کا شکریہ بھی ادا کیا۔بائیڈن نے زور دے کر کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کا ذمہ دار اکیلا روس ہے اور وہ اکیلا ہی اس تنازع کو ختم کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے روسی حملے کے خلاف کیف کی حمایت کے لیے واشنگٹن کے عزم کی بھی تجدید کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی جارح کو مطمئن کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو کیا اس ادارے کا کوئی رکن ملک اس بات پر اعتماد محسوس کر سکتا ہے کہ وہ محفوظ ہیں؟۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے رہنماوں پر زور دیا کہ روس کے خلاف سب ایک ساتھ کھڑے ہوں۔تقریبا 30 منٹ تک بولنے کے بعد بائیڈن نے اپنی تقریر ختم کی۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، موسمیاتی تبدیلی اور یوکرین کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ذمہ داری سے منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب چین کی بات آتی ہے تو میں واضح اور مستقل رہنا چاہتا ہوں، ہم اپنے ممالک کے درمیان مقابلے کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ تنازع میں نہ پڑ جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے