English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پریشان فلسطینی امریکی جنگ میں پھنسے پیاروں کی خیریت کیسے معلوم کریں

القمر

امریکہ میں بسنے والے فلسطینی اسرائیل اور حماس کی جنگ میں غزہ میں پھنسے اپنے عزیزو اقارب کے بارے میں پریشانی کے عالم میں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ دنیا میں بنیادی ضروریات زندگی سے محوم لوگوں کی امداد کے لیے آواز اٹھائی جائے۔

دارالحکومت واشنگٹن سے متصل ریاست میری لینڈ میں مقیم فلسطینی امریکی مصنفہ لیلی الحدید کہتی ہے کہ ان کے سامنے مستقبل میں ایک ہی سوال ہے کہ غزہ میں پھنسے فلسطینیوں کے لیے امداد کی آواز دنیا میں پھیلائی جائے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے حماس کے سات اکتوبر کے حملوں میں 1,300 سے زیادہ اسرائیلی ہلاکتوں کے بعد کہا ہے کہ وہ عسکریت تنظیم کو نیست و نابود کردے گا۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رہنے والے عام شہریوں سے کہا ہے کہ حماس کے خلاف زمینی کارروائی میں نقصان سے بچنے کے لیے وہ گھر چھوڑ کر وہاں سے نکل جائیں۔

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے ۔ ساتھ ہی اسرائیلی جوابی کارروائی میں واشنگٹن نے غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کو جانی نقصان سے محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔

فلسطینی امریکیوں کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ علاقے میں اسرائیل کی طرف سے بجلی منقطع ہونے سے لوگوں کو انٹرنیٹ کی بندشس سے رابطہ کرنے میں مشکلات ہیں۔



غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کی بمباری میں ہر طرف سےبند علاقے میں اب تک 1900 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 724 بچے اور 458 خواتین بھی شامل ہیں۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر کولمبیا میں اپنے دفتر میں کام کرتے ہوئے لیلی الحدید اپنے خاندان کی واٹس ایپ پر ان کے غزہ میں بجلی کی دستیابی اور انٹرنیٹ تک رسائی کے لمحوں میں خیریت جاننے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف وہ صحافیوں کو صورت حال پر اپنی آرا دے رہی ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ریاست کے مقامی منتخب عہدیداروں کی اس مسئلے پر توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے "ایسو سی ایٹڈ پریس” کو بتایا کہ وہ ان حالات میں وہ اپنے ہوش و حواس کو برقرار رکھتے ہوئے محصور علاقے میں فلسطینیوں کی مدد کرنے کے لیے وہ سب کر رہی ہیں جو وہ کر سکتی ہیں۔

بہت سے فلسطینی امریکی شہریوں میں بے بسی اور ناامیدی کا احساس پایا جاتا ہے کیونکہ وہ غزہ میں اپنے پیاروں کے حالت کے بارے میں جاننے کے لیے بہت تگ و دو کر رہے ہیں۔ غزہ میں اس وقت ایندھن اور پانی کی قلت ہے، بجلی نہیں ہے، اور اب شمال میں جبری انخلاء، غزہ میں شہریوں کو امداد پہنچانا اور بھیجنا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔



امریکی ریاست وسکانسن کے شہر ملواکی کے مضافاتی علاقے میں رہنے والے محمد ابو لغود کو غزہ میں ان کے خاندان کے سیل فون سے ٹوٹی پھوٹی اپ ڈیٹس موصول ہوئیں جو سولر پینل کے ذریعے چارج کیے گئے تھے۔

ان کے خاندان کا ایک بزرگ فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔ گھر میں رہنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے انہوں نے اقوام متحدہ کے اسکول میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ انہیں ایک شہری نے لکھا کہ ہم بھیانک خواب میں رہ رہے ہیں۔

(اس خبر میں شامل زیادہ تر معلومات اے پی سے لی گئی ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے