English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت،مشرق وسطی، یورپ اقتصادی راہداری کے لئے اسرائیل حماس تنازعہ کتنا بڑا چیلنج ہے؟

القمر

انہوں نے کہا "یہ صرف مالیاتی چیلنجوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ استحکام اور سفارتی تعاون کا بھی ہے۔ جنگ نےتکلیف دہ طور پر یہ واضح کیا ہے کہ حالات اب بھی دشوار گزار ہیں۔

جب اس منصوبے کا اعلان کیا گیا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے واشنگٹن کا دباؤ بڑھ رہا تھا اور امیدیں تھیں کہ یہ مشرق وسطیٰ کی دیرینہ دشمنیوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان قابل اعتماد رابطہ اس منصوبے کا ایک اہم عنصر ہے۔

اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ امریکہ کی ثالثی میں "ابراہم معاہدے” کی پیروی کرے گا جس کے تحت اسرائیل نے 2020 میں تین عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس منصوبے پر اس خیال کے تحت کام کیا گیا کہ خطے میں امن اور استحکام آئے گا۔

نئی دہلی میں” آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن” کے ممتاز فیلومنوج جوشی کے مطابق،”اس منصوبے پر اس مفروضےکے تحت کام کیا گیاتھا کہ خطے میں امن اور استحکام آئے گا۔لیکن یہاں تک کہ اگر آنے والے دنوں اور مہینوں میں کوئی وسیع تر تنازعہ نہیں ہے، تو بھی مستقبل اب غیر یقینی ہے۔”

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ "اس میں دو سے تین ہزار کلومیٹر ریلوے لائنیں بنانا شامل ہے۔ خطہ اب سیاسی عدم استحکام میں ڈوبا ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ کون سرمایہ کاری کرے گا؟

‘چین کا مقابلہ’

مغربی حمایت یافتہ راہداری کا تصور محض تجارتی راستے کے طور پر نہیں کیا گیا تھا – تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے جیو پولیٹیکل مقاصد تھے۔

اسے چین کے مقابلے کے طور پر دیکھا گیا، جس کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ کوگل مین کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اعتماد اور سیاسی سرمایہ پیدا کرنا تھا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو افی الوقت "کولڈ آ ئس” پر ڈال دیا گیا ہے، حالانکہ اسے آگے جاکر دوبارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک ضرورتیں ہیں، لیکن کوگل مین کے مطابق "ریاض کے لیے،ایک ایسے وقت میں، جب کہ اسرائیل غزہ میں اپنی بر بریت پر مبنی مہم چلا رہا ہے، ایسا کرنے کی سیاسی قیمت بہت زیادہ ہے۔”



نئی دہلی نے کہا ہے کہ اس وقت جاری تنازعہ تجارتی راہداری کے منصوبوں کو متاثر نہیں کرے گا۔بھارت جس کی معیشت ترقی کر رہی ہے، مجوزہ راستے سے بڑا فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک ہو گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آئی ایم ای سی کو "آنے والے سینکڑوں سالوں تک عالمی تجارت کی بنیاد” سے تعبیر کیاہے۔

"آئی ایم ای سی طویل مدتی ہے،” وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے گزشتہ ہفتے مراکش میں کہا جہاں انہوں نے G-20 وزرائے خزانہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔ "اگرچہ قلیل مدتی خرابیوں سے خدشات لاحق ہوسکتے ہیں اور ہمارے ذہنوں پر قابض ہوسکتے ہیں، لیکن ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے