اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے ریڈ کراس اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے مداخلت کریں۔
کوہن نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اسرائیل-فلسطینی اجلاس سے خطاب کیا۔
حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کی طرف سے 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل پر شروع کیے گئے "طوفان ِاقصیٰ” کے نام سےجامع حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کوہن نے کہا کہ حماس اور اسلامی جہاد کے 1500 سے زائد ارکان نے اسرائیل کے جنوب میں سرایت کر گئے ہیں۔
اسرائیل کے خلاف حماس کے حملوں میں 220 سے زائد اسرائیلیوں کو یرغمال بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کوہن نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ قیدیوں کی رہائی میں معاونت کریں۔
انہوں نے کہا، "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی فوری طور پر تمام مغویوں تک ان کی غیر مشروط رہائی کے لیے رسائی حاصل کرے۔”
قطر "حماس کے رہنماؤں کو مالی امداد اور پناہ دیتا ہے” کا دعوی کرتے ہوئے کوہن نے کہا کہ یہ ملک یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنا سکتا ہے ” عالمی برادری کے ارکان کو قطر سے ایسا کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔”
اسرائیلی وزیر نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے حوالے سے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "میں توازن قائم کرنے کی اور جنگ بندی کے مطالبات سن رہا ہوں ،کیا آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ جنگ بندی کیسے قبول کر سکتے ہیں جس نے آپ کووجود کو تباہ کرنے اور مارنے کی قسم کھائی ہو؟” 7 اکتوبر کے قتل عام کا متناسب ردعمل حماس کا مکمل طور پر خاتمہ ہے ۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے پر امریکہ، امریکی صدر جو بائیڈن اور وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا بھی شکریہ ادا کیا۔
