اسلام آباد: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6,584 غیر دستاویزی افغان شہری افغانستان واپس پہنچ گئے ۔
حکام نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ چمن اور طورخم بارڈر کراسنگ سے ہزاروں تارکین وطن مسلسل پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔
حکام نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عارضی ٹرانزٹ کیمپ قائم کیے ہیں۔
اتوار کے روز افغان تارکین وطن کی بڑی تعداد سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئی، جب کہ طورخم بارڈر پر ہزاروں افراد افغانستان میں داخلے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔
پاکستان کے حکام غیر قانونی تارکین وطن کے ملک میں قیام کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلاء کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
کمشنریٹ فار افغان ریفیوجیز (CAR) نے ایک بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز 7,135 افغان شہری طورخم بارڈر کراسنگ سے افغانستان واپس آئے۔
زیادہ تر افغان شہری غیر دستاویزی تارکین وطن کے طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔ چمن اور طورخم بارڈر کے ذریعے غیر قانونی افغانوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
قبل ازیں نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے لیے جامع حکمت عملی بنائیں۔
ملاقات کے دوران نگراں وزیر داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے اور غیر ملکیوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
