ترکیہ کی حزب اقتدار ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ’ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے کہا ہے کہ "ہم، فلسطین میں ٹی آر ٹی کی ٹیم پر اسرائیلی پولیس کے حملے کی شدت سے مذّمت کرتے ہیں”۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں چیلک نے کہا ہے کہ "ٹی آرٹی کی ٹیم فلسطین میں درپیش انسانی المیے کی عکس بندی کرنے اور غلط خبروں کا پردہ چاک کرنے کے لئے انتھک محنت کر رہی ہے۔ اس جانفشانی پر میں ٹی آر ٹی کی پوری ٹیم کا مشکور ہوں۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے خلاف اسرائیلی حکام کا غصّہ اصل میں اس احساسِ جُرم کا عکاس ہے جو انہیں اپنے مکروہ افعال پر محسوس ہو رہا ہے۔ ہم اسرائیل کے انسانی جرائم کو دستاویزی شکل دینا اور بین الاقوامی پلیٹ فورم پر ان موضوعات کو ایجنڈے پر لانا جاری رکھیں گے”۔
ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ فخر الدین آلتون نے بھی سوشل میڈیا پر ٹی آر ٹی کی رپورٹر ٹیم پر حملے کی مذّمت کی اور متاثر رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کو تسلّی دی ہے۔
آلتون نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے، فوجیوں سے لے کر پولیس تک، تمام مسلح عناصر کے ساتھ بین الاقوامی قانون کو پاوں تلے روند رہا ہے اور حقیقی معنوں میں بے لگام ہو گیا ہے۔ میں، القدس میں اسرائیلی پولیس کے ٹی آر ٹی پر حملے کی مذّمت کرتا ہوں ۔ بلاشبہ اس مکروہ حملے نے آزادی صحافت کے موضوع پر اسرائیل کے ریکارڈ میں ایک تازہ شرمندگی کا اضافہ کر دیا ہے”۔
واضح رہے کہ ٹی آر ٹی خبر کی ٹیم ،نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد اقصیٰ آنے والوں فلسطینیوں کے خلاف، اسرائیلی فورسز کی جارحانہ کاروائیوں کی کوریج میں مصروف تھی کہ پولیس نے ان پر حملہ کر دیا۔
اسرائیلی پولیس نے عملی طور پر ٹی آر ٹی خبر کی ٹیم کے کام میں رکاوٹ ڈالی اور رائفل کے بیرل سے ٹیم کا کیمرہ توڑ ڈالا۔
