کراچی: نگراں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت یونس ڈاگھا نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے سائٹ لمیٹیڈ کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں صنعتوں میں آگ سے بچاؤ کے مجوزہ اقدامات حتمی منظوری دی جائے گی، ایف پی اے پی کے ساتھ ملکر صنعتوں میں آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔ آگ سے بچاؤ کے اقدامات کو لازمی قرار دینے کے لئے تیاری کرلی ہے۔
یونس ڈاگھا کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق کراچی کی 70 فیصد رہائشی ،کاروباری اور صنعتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کا نظام نہیں ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی عمارتوں کی تعداد 90 فیصد سے زائد ہے، وہ فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن پاکستان کے تحت پہلے نیشنل فائر سیفٹی سمپوزیم کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
سمپوزیم کا انعقاد فائر پروٹیکشن ایسوسییشن آف پاکستان نے کیا تھا جس سے صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر جنید علی شاہ کے علاوہ صوبائی وزیر صنعت و تجارت یونس ڈھاگا، فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر کنور وسیم، طارق معین، فواد باری، ذوالفقار شاہ، این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر مسعود رفیع، سرسید یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد عمران، ڈائریکٹر سندھ ریسکیو کے ڈاکٹر عابد شیخ، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے محسن علی خان، پی ڈی ایم اے کے امداد حسین صدیقی،کے الیکٹرک رضوان احمد سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
ان کا کہناتھا کہ صنعتوں میں آگ کے بچاؤ کےاقدامات کی عملداری کو یقینی کے بعدوہ نگراں سندھ کابینہ میں رہائشی عمارتوں کے لیے بھی یہ تجویز پیش کریں گے
یونس ڈاگھا کا۔کہنا تھا کہ میں اپنے ساتھ سیکریٹری انڈسٹریز اور ایم ڈی سائیٹ کو اسی مقصد کے لیے ساتھ لایا ہوں کیوں کہ عملدرآمد انہوں نے کروانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگراں کابینہ مدت اتنی بھی کم نہیں کہ یہ دو کام نہ ہوسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے جان کر خوشی ہوئی ایف پی اے پی ٹریننگ بھی دے رہی ہے، ہماری خواہش ہے فائر سیفٹی کوڈز کے نفاذ کو انڈسٹریز سے شروع کریں۔
فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر کنور وسیم نے کہا کہ پہلے اسکولوں اور کالجوں میں فائر سیفٹی اور فرسٹ ایڈ کی مشترکہ تربیت دیتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ ہی روک دیا گیا ہے ، ہم اسکولوں سے بچوں کو فائر سیفٹی کی تربیت دینا ہوگی،
کنور وسیم کا کہنا تھا کہ انڈسٹریز ایک بڑا بڑا شعبہ ہے، 8 ہزار سے زائد صنعتیں ہیں اور یہ ایک ہیومینیٹیرین تحریک ہے جس کے تحت ہمیں انڈسٹریز میں کام کرنے والے ملازمین کو تربیت دینا ہوگی۔
نیشنل فائر سیفٹی سیمپوزیم میں ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سندھ ریسکیو کے ڈاکٹر عابد شیخ نے کہا کہ ہائی ویز کی طرف چلے جائیں جتنی بھی ہائی رائز عمارتیں اور سوسائٹیز بن رہی ہیں، ان عمارتوں میں فائر ایمرجنسیز کے لیے کوئی انتظامات نہیں ہیں، روٹری کے ڈسٹرکٹ گورنر اقبال قریشی کا کہنا تھا کہ بلڈنگز کنٹرول رولز موجود ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا، ہر ماہ آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں اگرآلات موجود بھی ہیں تو لوگوں چلانا نہیں آتے لہٰذا جو کمپنیاں آلات فراہم کر رہی ہیں انہیں ٹریننگ بھی دینی چاہیے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد رفیع کا کہنا تھا کہ شہریوں کو علم ہی نہیں اگر آگ لگ جائے تو فوری طور پر کیا کرنا ہے، ہم قانون اور عمارتوں کے قانون کی بات کرتے ہیں لیکن شہریوں کو بنیادی باتیں ہی معلوم نہیں ہیں، آگ لگ جائے تو امریکن اور یورپین سروں پر گیلے تولیے رکھ کر نکلتے ہیں اور ہم ایشین کھانستے ہوئے نکلتے ہیں اس لیے یہ ایجوکیشن ہمیں بچپن سے دینی ہوگی۔
