English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عید پر بھی اسرائیلی دہشتگردی جاری، حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹوں، پوتوں سمیت 122 شہید

مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست کی جانب سے عید الفطر پر بھی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا اور غزہ پر تازہ بمباری میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹوں اور پوتوں سمیت 125 فلسطینی شہید ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق وزارت صحت (غزہ) کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر مسلسل بمباری کی، جس کے نتیجے میں 125 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے اور پوتے بھی شامل ہیں۔

تازہ شہادتوں کے بعد 7 اکتوبر سے غزہ پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 33 ہزار 482 ہو گئی ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نےالجزیرہ سے گفتگو میں بیٹوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے حازم، عامر اور محمد شمالی غزہ میں واقع پناہ گزین کیمپ میں اپنے عزیز و اقارب سے عید مل رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 3بیٹوں کے ساتھ ان کے پوتے بھی بمباری کی زد میں آکر شہید ہوئے ہیں۔ میرے بچوں کا خون فلسطینی عوام کے بچوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔

واضح رہے اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں میں بہت بڑی تعداد خواتین و بچوں کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 14 ہزار 500 بچے اور 9 ہزار 500 سے زائد خواتین جام شہادت نوش کر چکی ہیں جب کہ وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوکر اسرائیلی پابندیوں اور امداد میں رکاوٹ کی وجہ سے دربدر اور کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار رہنے پر مجبور ہیں۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 56 فلسطینی زخمی بھی ہوئے جس کے بعد زخمیوں کی مجموعی تعداد 76 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی دہشت گردی کے متاثرہ لاکھوں فلسطینی خصوصاً اہل غزہ مہاجر کیمپوں میں کھلے آسمان تلے عید الفطر منا رہے ہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں نے ملبے کا ڈھیر بنی مساجد پر نماز عید ادا کی جبکہ مسجد اقصیٰ میں بھی عید کا بڑا اجتماع ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے