English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغان خواتین پر حجاب کے نفاذ میں کمی دیکھی گئی ہے:اقوام متحدہ

جمعرات کو اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سخت گیر طالبان کی حکومت نے خواتین پر شرعی ڈریس کوڈ یا حجاب کے نفاذ کی اپنی مہم میں نرمی کی ہے۔ تاہم، افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن، یا، UNAMA نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں جاری رہیں۔

طالبان نے افغان خواتین کے لیے "شرعی حجاب” کو لازم قرار دیا ہوا ہے ،جس کے تحت انہیں اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے یا صرف آنکھیں ظاہر کرنےکی اجازت ہے۔

ڈریس کوڈ کے نفاذ کی کارروائیاں گروپ کی امر باالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ، اگرچہ افغانستان میں یوناما کو حجاب کی ہدایات کے نفاذ سے متعلق طالبان کی وزارت کے بارے میں رپورٹس موصول ہوتی رہیں، لیکن دسمبر 2023 اور جنوری 2024 کے درمیان نفاذ کے اقدامات کے بڑے پیمانے پر خاتمے کے باعث جنوری 2024 کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔


افغان ٹیلی وژن طلوع کے ایک پروگرام میں بنفشا بینش اور وحیدہ حسن شریک ہیں۔ 8 فروری 2022

افغان ٹیلی وژن طلوع کے ایک پروگرام میں بنفشا بینش اور وحیدہ حسن شریک ہیں۔ 8 فروری 2022

11 جنوری کو، UNAMA نے افغانستان بھر میں لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ایسے متعدد واقعات کے بارے میں خبردار کیا تھا جن میں مبینہ طور پر حجاب کی پابندی نہ کرنے پر کچھ کا کمیونی کیشن رابطہ منقطع کر دیا گیا، کچھ کو حراست میں رکھا گیا اور کچھ کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔ طالبان حکام نے اس وقت اقوام متحدہ کے خدشات کو "غلط” اور "پروپیگنڈا” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

جمعرات کو جاری یوناما کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے کی تعلیم پر مسلسل پابندی کے باعث افغانستان کے ہائی سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز لڑکیوں کی موجودگی کے بغیر ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ،”کابل میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر ڈی فیکٹو وزارت تعلیم کی طرف سے ایک تقریب میں شرکت کے لیے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک دعوت نامے میں خواتین کے لیے مناسب جگہ کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے، خواتین صحافیوں کو خاص طور پر شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔”

افغانستان میں نئے تعلیمی سال کا آغاز؛ 'ہم اپنی بہنوں کے چہروں کی اداسی کو دیکھ سکتے ہیں'





please wait



No media source currently available

یوناما نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان میں صحافی اور میڈیا ورکرز مسلسل ایک ایسے چیلنجنگ ماحول میں کام کر رہے ہیں، جس میں میڈیا کو طالبان کی طرف سے عائد متعدد پابندیوں اور اپنے کام کے دوران کسی بھی وقت حراست کے خطرے کا سامنا ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکام نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے تین افراد کو سرعام پھانسیاں دیں۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے، انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے اس عمل کو روکنے کے مطالبے کے باوجود قتل کے پانچ مجرموں کو سرعام پھانسی دی ہے۔


افغانستان کے صوبے غزنی میں 18 اپریل 2015 کو تین مردوں کو موت کی سزا دیے جانے کے واقعے کی ایک تصویر ، فائل فوٹو

افغانستان کے صوبے غزنی میں 18 اپریل 2015 کو تین مردوں کو موت کی سزا دیے جانے کے واقعے کی ایک تصویر ، فائل فوٹو

یوناما نے اپنی رپورٹ میں کہا، "ڈی فیکٹو حکام عدالتی جسمانی سزا کا سرعام نفاذ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، ایسی سزائیں ہر ہفتے کم از کم ایک صوبے میں ہوتی ہیں ۔”

طالبان اسپورٹس اسٹیڈیمز میں ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں سینکڑوں مردوں اور عورتوں کو سرعام کوڑے مار چکے ہیں۔ متاثرین کو طالبان کی عدالتوں کی طرف سے ایسے جرائم، مثلاً چوری، ڈکیتی، زنا اور دوسرے”اخلاقی جرائم” میں سزا سنائی گئی تھی۔


طالبان حکومت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر قندھار میں ایک افغان طالبان کے جھنڈوں کے قریب بیٹھا ہے۔ 15 اگست 2023

طالبان حکومت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر قندھار میں ایک افغان طالبان کے جھنڈوں کے قریب بیٹھا ہے۔ 15 اگست 2023

افغان خواتین کو اقوام متحدہ سمیت کئی سرکاری اور نجی کام کی جگہوں سے بھی روک دیا گیا ہے۔

طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے یہ کہتے ہوئے اپنی حکمرانی کا دفاع کیا ہے کہ یہ مقامی ثقافت اور اسلامی قانون کے عین مطابق ہے۔

انہوں نے اپنی پالیسیوں پر بین الاقوامی تنقید اور اسلامی قانون کی سخت تشریح کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔


کابل کی ایک سٹرک پر طالبان کے قائد ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کا [پوسٹر آویزاں ہے۔ 14 اگست 2023

کابل کی ایک سٹرک پر طالبان کے قائد ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کا [پوسٹر آویزاں ہے۔ 14 اگست 2023

بین الاقوامی برادری نے طالبان حکومت کو بنیادی طور پر افغان خواتین کے ساتھ اس کے سخت سلوک کی بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

(ایاز گل، وی او اے نیوز)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے