اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم اور دیگر وزرا کے بیانات انتہا پسند ذہنیت کے عکاس ہیں۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ بھارتی لوک سبھا کے الیکشن مہم کے دوران وہاں کی سیاسی شخصیات اور رہنماؤں کے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیانات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو انتخابی فوائد کے لیے ہائپر نیشنلزم کا فائدہ اٹھانے کے ارادوں کا کھلا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزرا کے غیر ذمے دارانہ بیانات کو پاکستان بالکل مسترد کرتا ہے۔ یہ بیانات پاکستان کے ساتھ بھارت کے غیر ضروری اور لاپروا جنون کا اظہار ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزرا کی طرف سے الیکشن مہم کے دوران بڑھتی نفرت انگیزی اور پاکستان مخالف بیان بازی دراصل خود پر کی جانے والی بین الاقوامی تنقید پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
بھارتی رہنماؤں کے بیانات انتہا پسند ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں، جو خود بھارت ہی کی اپنی تزویراتی صلاحیت کا ذمے دار بننے کی صلاحیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیت کا مقصد اپنی خودمختاری کا تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کرنا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی اپنے دفاع کے عزم کا واضح طور پر مظاہرہ کیا ہے اور اگر بھارت کی جانب سے کسی مہم جوئی کا انتخاب کیا گیا تو مستقبل میں بھی ایسا کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

