اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان 9 ماہ بعد ویڈیو لنک پیشی کے زریعے منظر عام پر آنے والے ہیں ۔
عمران خان کو قومی احتساب آرڈیننس 2 ہزار میں ترمیم کے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے عوام کے سامنے پیش ہونے کا پہلا موقع ملے گا۔
یہ بات قابل زکر ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف “کرپشن” کے اپنے پرانے بیانیے پر زور دیں گے یا سیاسی مقاصد کے لیے احتساب کے عمل میں ‘طاقتور اداروں ‘ کی مداخلت کے بارے میں بات کریں گے ۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
آج پی ٹی آئی رہنما پارٹی کے بانی سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کی عوامی موجودگی کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہوگا جب عمران خان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ کے سامنے پیش ہوں گے، جنہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور پی ٹی آئی کے درمیان مئی 2019 میں صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں۔
یہاں تک کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بنچ نے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عمران سے متعلق کیسز نہیں سننا چاہیے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں شدید تحفظات ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مشکل وقت برداشت کرنے پر معاملات میں ریلیف نہیں دیا گیا ۔

