English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پانی کا شدید بحران: جماعت اسلامی کا اہل کراچی کے حقوق کیلیے شاہراہ فیصل پر دھرنا

کراچی:شہر قائد میں پانی کے بحران اور گرمی کی شدید لہر کے باوجودحکومتی بے حسی کے خلاف جماعت اسلامی  کراچی کے تحت شاہراہ فیصل پر اہل کراچی کے حقوق کے لیے دھرنا شروع ہوگیا۔

جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے میں شہر بھر سے عوام بڑی تعداد میں پہنچ چکے ہیں جب کہ مختلف علاقوں سے قافلے بھی احتجاج میں شریک ہونے کے لیے رواں دواں ہیں۔ جماعت اسلامی کے تحت دیے جانے والے دھرنے میں شریک افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں، جن پر احتجاجی نعرے درج ہیں۔

دھرنے سے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان خطاب کریں گے، جس میں وہ کراچی میں پانی کے بحران اور اس پر حکومتی  بے حسی  کے خلاف آئندہ کے  لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

جماعت اسلامی کے دھرنے کے لیے شاہراہ فیصل پر لگائے گئے کیمپ  پر پولیس کی جانب سے  رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور پولیس حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد دوبارہ کیمپ لگا دیے گئے، جہاں شہر بھر سے تمام مکاتب فکر اور ہر عمر کے افراد جوق در جوق پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جن میں خواتین و بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

دھرنے کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے ابتدائی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی وطن عزیز کا معاشی انجن ہے۔  شہر قائد کو وفاق اور صوبے نے نظر انداز کردیا۔ پیپلز پارٹی 16 سال سے سندھ پر قابض ہے جو کراچی سے لینا جانتی ہے لیکن کچھ دینا نہیں جانتی۔

منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی بدمعاش کے باعث گزشتہ روز سیکڑوں شہری ہیٹ ویو کی نذر ہوگئے۔ کوئی کے قاتل الیکٹرک کو لگام دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ قاتل الیکٹرک کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سرپرستی فراہم کررہی ہیں ۔آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم نے 2009 میں کھمبوں کی قیمت میں فروخت کردیا۔2009 میں 18 لاکھ صارفین تھے اور آج 36 لاکھ صارفین ہیں لیکن بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر قاتل الیکٹرک کو سبسڈی کے نام پر اربوں روپے دے دیے۔ قاتل الیکٹرک نے  شہریوں سے درجنوں قسم کے ٹیکس لگا کر شہریوں کا جینا مشکل کردیا ہے۔شہری پریشان ہیں بجلی کا بل ادا کریں یا گھر کا کرایہ ادا کریں یا راشن لائیں۔شہر میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کے شدید بحران کا ہے۔ جماعت اسلامی کے سٹی ناظم عبد الستار افغانی نے کے ون اور کے 2 منصوبہ مکمل کیا۔جماعت اسلامی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے کے تھری منصوبہ مکمل کیاتھا۔ نعمت اللہ خان نے 2004 میں کے فور منصوبہ پیش کیا جسے 2019 میں مکمل ہونا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہوسکا۔

امیر جماعت نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ بلدیہ کے بجٹ صرف 48 ارب روپے رکھے گئے۔ 2001 میں نعمت اللہ خان کے دور میں بلدیہ کا بجٹ 6 ارب روپے سے بڑھ کر 42 ارب تک پہنچ گیا تھا۔پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہے اور اب بلدیہ کی حکومت بھی انہی کی ہے اس کے باوجود بلدیہ کے لیے کوئی نیا پروجیکٹ نہیں رکھا۔ صورتحال یہ ہے کہ نلکوں میں پانی نہیں آتا لیکن ٹینکروں میں پانی آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے ٹینکر مافیا کے ذریعے  ہائڈرینٹ سیل میں 1 ارب 86 کروڑ روپے کمائے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مزاحمتی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس کے باہر یہ پہلا اور آخری دھرنا نہیں، رات مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے