اسلام آباد( نمائندہ جسارت )جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے باہر ہو جائے تو سب خیر ہو جائیگی‘حکومت سمجھتی ہے عوام دوست بجٹ ہے ‘مگر ملک کا کباڑہ ہو گیا ‘ عوام اعتماد نہیں کرتے‘ حکومت کو ٹیکس نہیں دیں گے‘اقلیت ملک پر مسلط ہے‘ ریاست شقی القلب ہوچکی ہے‘2010سے آپریشن کے نام پر مارکھارہے ہیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا حکومت سمجھتی ہے عوام دوست بجٹ ہے مگر ملک کا کباڑہ ہو گیا ہے، اقلیت حکومت کر رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ
نہیں ہے۔بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا ہمارے وزیراعظم نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا، سفارتی لحاظ سے ہمارے وزیراعظم کامیاب ہو کر نہیں آئے۔ان کا کہنا تھا چین کے مہمان آئے اور انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان میں عدم استحکام ہے،سیکورٹی کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا لگتا ہے آپریشن کے ذریعے چین کی بات پوری کی جا رہی ہے، اس پراسٹیبلشمنٹ کا مؤقف واضح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا میں نے مشورہ دیا ہے کہ پنگا نہ لیں، پوچھا گیا پنگا کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا یہ لینے سے پتا چلتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے آپریشن کیے اور لوگوں کو کہا کہ گھر بار چھوڑ دیں، سوات سے شمالی وزیرستان تک علاقہ کو خالی کرایا گیا، لوگوں نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کی، چمن بارڈر پر 9 ماہ سے لوگ دربدر بیٹھے ہوئے ہیں،2010سے آپریشن کے نام پر مارکھا رہے ہیں‘ سرحد میں اور آپ پاک افغان بارڈر کہتے ہیں، افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن سمجھتا ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ریاست شقی القلب ہوچکی ہے کہ اپنے باشندوں کو تحفظ تک نہیں دے رہی، شرائط لگائیں لیکن قابل برداشت ہوں، ملک کی وفاداری پر آپ قبضہ کرلیتے ہیں کوئی اور بات کرے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کے ملک کے عوام آپ کو ٹیکس نہیں دیں گے، کیوں کہ عوام کو آپ پر اعتماد نہیں ہے، عوام کو پتاہے کہ ٹیکس کا پیسہ ان پر نہیں خرچ ہوگا بلکہ آئی ایم ایف کو دیا جائے گا، ہرشعبہ پر، ہر کمائی میں، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے۔بعد ازاں پارلیمنٹ کی راہداری سے گزرتے ہوئے میڈیا کے سوالوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک پر اقلیت حکومت کر رہی ہے، پیپلز پارٹی بھی حکومت کا حصہ نہیں ہے، عوام دوست بجٹ کا نعرہ لگایا گیا لیکن ملک کا کباڑہ ہوگیا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پارلیمان اپنا مقدمہ ہار چکی ہے، اسٹیبلشمنٹ الیکشن میں دھاندلی کرے گی تو ایسا ہوگا، اسٹیبلشمنٹ سیاست سے باہر ہوجائے تو خیر ہوجائے گی، حکومت اور اپوزیشن ایک میز پر بیٹھ جائیں گی۔
