کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شاہراہ فیصل واٹر بورڈ ہیڈ آفس پر پانی کے شدید بحران کے خلاف احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پُر امن احتجاج اور عوامی مزاحمتی تحریک کو مزید تیز اور وسیع کرے گی ، اہل کراچی کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے ہر قسم کی آئینی ، قانونی و جمہوری جدو جہد جاری رکھیں گے ،ہم آج کے دھرنے کو شہر بھر میں احتجاج میں تبدیل کریں گے۔جمعہ 28جون کو بدترین لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران کے خلاف کے الیکٹرک کی آئی بی سیز اور واٹر ہائیڈرینٹ سمیت شہر بھر میں 100 سے زائد مقامات پر مظاہرے ہوں گے ،جب لوڈ شیڈنگ پر سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کی دشمن ہے، ہم واضح کردینا چاہتے ہیں اگر کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہم اسی طرح عوامی مزاحمت اور احتجاج کریں گے۔ پیپلز پارٹی 16 سال سے سندھ پر قابض کے صرف دعوے ہی دعوے ہیں ، پیپلز پارٹی کے وزراء اعلان کرتے ہیں کہ 300 یونٹ کے بجلی کے بل کو فری کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے وزراء اپنے ہی اعلان کے بعد خود اپنا مذاق بناتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لیے ساڑھے چار کروڑ اور وزیر اعلی ہاوس کے لیے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وہ ادارے جو کہتے تھے کہ ہم سسٹم پر ہاتھ ڈالیں گے انہوں ہی سسٹم کے سب سے بڑے ہرکارے کو اسلام آباد میں جاکر بٹھادیا۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ شہر کا بڑا حصہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے،شدید گرمی اور ہیٹ ویوز میں بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کی اجیرن بنا دی ہے اور کئی قیمتی انسانی جانوں کو چھین لیا ہے ،انہوں نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا دفتر کرپشن کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ کرپشن میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم برابر کی شریک ہیں۔بلدیہ عظمی کراچی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کو 3 سال نہیں اگر 300 سال بھی مل جائیں تب بھی یہ عوام کو بجلی اور پانی نہیں دے سکتے۔ جماعت اسلامی نے آج صرف ٹوکن دھرنا دیا ہے۔ہم مزاحمتی تحریک اور عوامی احتجاج کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ مزاحمتی تحریک کو گلی گلی چلائیں اور عوام کو جمع کریں، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ اس وقت کراچی کو واٹر ایمرجنسی کی ضرورت ہے، کے فور منصوبہ کو فی الفور مکمل کیا جائے۔ کے فور منصوبے کے پیسے صوبہ ادا کرے یا پھر ہائیڈرینٹ سے وصول کیا جائے جو اربوں روپے وصول کررہے ہیں۔ اگر آج کے فور منصوبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے جائیں تو 3 سال میں کے فور منصوبہ مکمل ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی کا مقدمہ ایوانوں اور سڑکوں پر بھی لڑے گی۔ وفاقی و صوبائی حکومت کراچی کے عوام کو کوئی سہولت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ صوبائی بجٹ میں کراچی کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔ کراچی صوبے اور پورے پاکستان کی معیشت کو چلاتا ہے۔ وفاق اور صوبے کی کشمکش کی وجہ سے کے فور منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ صوبائی حکومت کراچی کو انڈر پاس، پل اور سڑکیں نہیں دے رہی کم از کم پانی دے۔ سعید غنی کہتے ہیں کہ شاہراہ فیصل پر دھرنا نہ دیں شہریوں کو پریشان نہ کریں۔ اہلیاں کراچی پریشان ہیں اسی وجہ سے دھرنا دینے پر مجبور ہیں۔ کراچی میں ہیٹ ویوز سے شہید ہونے والوں کے ذمہ دار سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی، وزیر توانائی ، وزیر اعلی سندھ پر ہے۔
