اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے پی ٹی آئی کو جلسہ کی اجازت نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسہ کی اجازت کا معاملہ حل کریں۔ عدالت نے پٹیشنر کے وکیل شعیب شاہین کومخاطب کر کے کہا آپ بھی تو مانتے نہیں ہیں کہ ایک جگہ اجازت ملتی ہے تو اس کو پورا نہیں کرتے۔ شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ جلسے کی اجازت کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عاید کردہ شرائط پر عمل کے لیے تیار ہیں۔ عدالت نے ڈی سی اسلام آباد کو
مخاطب کر کے کہا آپ کا اس سے پہلے کا آرڈر بیلنس نہیں تھا، آپ کے لیے بہتر ہے اس معاملے کو حل کریں اگر آئندہ آپ آئیں تو مناسب وجوہات ساتھ بتائیں۔ادھراسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، محکمہ داخلہ پنجاب کو تحقیقات کا حکم دیدیاکہ وہ اس کی تحقیقات کریں کہ غیرقانونی طور پر سابق وفاقی وزیر کو کیوں گرفتارکیا گیا۔علاوہ ازیںاسلام آباد ہائی کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی، عدالت میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور ایف آئی آر کا ریکارڈ پیش کردیا گیا۔عدالت نے زرتاج گل کانام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ الزامات جھوٹے اورقابل ضمانت ہیں، بلاوجہ نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتاہے،ہم ابھی نام نکال رہے ہیں ،آئندہ ان کو بھی بلائیں گے جو منظوری دیتے ہیں۔ عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے میں نام ای سی ایل سے نکال کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
