بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 500 پیرا ملٹری کمانڈوز خصوصی طور پر تعینات کیے ہیں۔ ان کمانڈوز کی تعیناتی کا مقصد دراندازوں کو تلاش کرکے ٹھکانا بتایا گیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ چند ہفتوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی قافلوں اور کیمپوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ ان حملوں کے لیے ان گروپوں کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے جو مبینہ پاکستانی امداد اور رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کا دعوٰی ہے کہ 50 تا 55 جنگجو جموں کے علاقے میں چھوٹے گروپس کی شکل میں سرگرم ہیں اور یہ کہ اُنہیں مقامی لوگوں کی حمایت و مدد بھی حاصل ہے۔ رپورٹ میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ یہ لوگ کوئی نئی، بڑی خوں ریز تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 500 پیرا ملٹری کمانڈوز کی معاونت کے لیے 200 بکتر بند گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ یہ کمانڈوز بعض علاقوں میں گشت کے علاوہ سرچ آپریشن بھی کر رہے ہیں۔ سرچ آپریشنز کے باعث مقامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کا واویلا ہے کہ چند ہفتوں کے دوران سرگرم ہونے والے جنگجو غیر معمولی تربیت یافتہ ہیں۔ انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بھارتی قابض فوج کے ذرائع نے بتایا کہ جنگجو چونکہ زیادہ تربیت یافتہ ہیں اس لیے اُن پر قابو پانا عام فوجیوں کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

