امریکا میں صدارتی انتخابی مہم فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی۔ صدر بائیڈن کے لیے فیصلے کی گھڑی ممکنہ طور پر آپہنچی۔ وہ کسی بھی وقت انتخابی دوڑ سے الگ ہوسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی اکثریت نے کملا ہیرس کو بہترین صدارتی امیدوار قرار دے دیا ہے۔
امریکا بھر میں ڈیموکریٹ حلقے چاہتے ہیں کہ صدر بائیڈن اب انتخابی مہم سے الگ ہوجائیں تاکہ ڈیموکریٹک پارٹی ڈھنگ سے انتخابی مہم چلانے کی تیاری کرسکے۔ نائب صدر کملا ہیرس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہوں گی۔ خود صدر بائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ کملا ہیرس میں امریکی صدر کے منصب پر فائز ہونے کی بھرپور اہلیت موجود ہے۔
گزشتہ ہفتے سابق صدر اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد اب سے اب تک صدر بائیڈن کے لیے الجھنوں میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ اب وہ اپنے معاونین اور مشیروں کے علاوہ اہلِ خانہ سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔ وہ اپنی طبی پیچیدگیوں کی بنیاد پر انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کی بات خود بھی کہہ چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن نے انتخابی مہم سے الگ ہونے کا ذہن بنانے میں بہت وقت لیا ہے۔ اگر وہ ڈھائی تین ماہ پہلے یہ فیصلہ کرلیتے تو ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن خاصی مستحکم ہوتی۔ اب اگر وہ انتخابی دوڑ سے الگ ہوتے بھی ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے زیادہ گنجائش بچی نہیں۔ الیکشن ہارنے کی صورت میں صدر بائیڈن ہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے رننگ میٹ یعنی نائب صدر کے عہدے کے امیدوار سینیٹر جے ڈی وینس نے تو خراب صحت کو دیکھتے ہوئے صدر بائیڈن کے استعفے کا بھی مطالبہ کردیا ہے۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا واحد سپر پاور ہے۔ عالمی معاملات میں امریکا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ جو بھی صدر کے منصب پر ہو وہ جسمانی و ذہنی اعتبار سے بالکل درست حالت میں ہو۔ صدر بائیڈن کی حالت ایسی نہیں کہ اہم ترین ملکی اور عالمی امور پر نظر رکھ سکیں اور درست ترین فیصلے کرسکیں۔

