بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور فوج آمنے سامنے ہیں۔ ملک بھر میں کرفیو نافذ ہے مگر اس کے باوجود احتجا کرنے والے طلبہ پر قابو پانے میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔
صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر بھارت نے ڈھاکہ اور دیگر شہروں سے اپنے ایک ہزار سے زائد طلبہ کو واپس بلالیا ہے۔ یہ طلبہ بسوں میں بیٹھ کر کولکتہ کے راستے اپنے گھر اپس پہنچے ہیں۔ 200 طلبہ فضائی سفر کے ذریعے واپس آئے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ جو کچھ بھی بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے وہ اُس کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارتی طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ احتجاجی تحریک میں شریک نہ ہوں اور ہاسٹلز میں اپنے کمروں تک محدود رہیں۔
بنگلہ دیش میں اس وقت بھی چار ہزار طلبہ سمیت کم و بیش 15 ہزار بھارتی باشندے موجود ہیں۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکام سے رابطہ برقرار ہے تاکہ وہاں موجود تمام بھارتی باشندوں کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔ بیرونی طلبہ کے ہاسٹلز کی نگرانی سخت تر کردی گئی ہے۔
بنگلہ دیش میں بھارتی ہائی کمیشن نے نیپال کے 13 طلبہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ دیگر ملکوں کے طلبہ بھی واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ بھی موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر سید معروف نے پاکستانی طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج میں حصہ نہ لیں اور اپنے کمروں تک محدود رہیں۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکام سے رابطہ ہے۔ ان طلبہ کی سلامتی یقینی بنانے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔
بھارت، نیپال اور بھوٹان سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ہنگاموں کی زد میں آئے ہوئے علاقوں سے نکل کر شمال مشرقی بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد عبور کی۔ ان طلبہ نے بتایا کہ صورتِ حال لمحہ بہ لمحہ ابتر ہوتی جارہی ہے۔ بہت سے طلبہ نے پرائیویٹ ٹیکسیاں کرائے پر حاصل کرکے سرحد تک کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ بس اور ٹرین سروس شدید متاثر ہے۔ معمولی فاصلے طے کرنا بھی انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔

