بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ بیشتر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کا احتجاج 15 سال سے اقتدار پر قابض عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی تحریک میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کی تیزی سے بگڑی ہوئی صورتِ حال نے وہاں مقیم بیرونی طلبہ اور اُن کے والدین کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان کے بھی سیکڑوں طلبہ بنگلہ دیش کے کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ والدین نے اس حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے ایڈیشنل سیکریٹری کو خط لکھ دیا ہے جس میں وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے بچوں کی واپسی کے انتظامات کیے جائیں اور جب تک وہ وہاں مقیم تب تک اُن کی سلامتی بھی یقینی بنائی جائے۔
والدین نے خط میں کہا ہے کہ بہت سوں کا اپنے بچوں سے رابطہ بھی نہیں ہو پارہا۔ ڈھاکہ میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر رابطہ کروائیں تاکہ تشویش ختم ہو۔ ساتھ ہی ساتھ والدین نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کرفیو کے باعث اشیائے خور و نوش تک رسائی مشکل ہونے کے باعث پاکستانی طلبہ کو خوراک بھی پہنچائی جائے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے کالجوں اور جامعات کے کیپمس اور ہاسٹل بند کردیے ہیں۔ بیشتر ہاسٹلز سے طلبہ کو نکال دیا گیا ہے۔ پاکستانی طلبہ اپنے اپنے ہاسٹلز کے احاطے میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ وہ شدید غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
والدین نے وزیرِاعظم کے نام خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں سے رابطہ کروانے کو اولین ترجیح دی جائے۔ واضح رہے کہ بھارت، نیپال اور بھوٹان نے صورتِ حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے اپنے اپنے طلبہ کو بنگلہ دیش سے نکالنا شروع کردیا ہے۔ بھارت کے ایک ہزار سے زائد طلبہ نکالے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 200 کو پروازوں کے ذریعے وطن واپس پہنچایا گیا۔
بھارت نے نیپال کے 13 طلبہ کو بھی بنگلہ دیش سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت، نیپال اور بھوٹان کے سیکڑوں طلبہ بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے ذریعے بنگلہ دیش سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ بنگلہ دیش میں ٹرین اور بس سروس معطل ہونے کے باعث یہ طلبہ ٹیکسیاں کرائے پر لے کر سرحد تک پہنچ پائے۔ بھارت کے چار ہزار سے زائد طلبہ اور گیارہ ہزار دیگر بھارتی باشندے اب تک بنگلہ دیش میں ہیں۔ جن ممالک کے باشندے بنگلہ دیشی کی سرزمین پر موجود ہیں وہ اُن کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک نے اپنے باشندوں کو مشورہ دیا ہے کہ بنگلہ دیش جانے سے گریز کریں۔
بنگلہ دیش کے طول و عرض میں کرفیو نافذ کرکے معاملات فوج کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حالات پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیشی حکومت نے بھارتی فوج سے مدد مانگی ہے اور بھارتی فوج کے دستے بھی بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔
طلبہ تحریک خطرناک موڑ پر ہے کیونکہ عوام بھی اب طلبہ کے ساتھ ہیں۔ فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دیں مگر فوج اور پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلانے سے اب تک گریز کیا ہے۔ کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران مظاہرین فوج اور پولیس کے سامنے بھی ڈٹ گئے۔ انہوں نے فوج کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا جس پر فوج نے گولی چلانے کے بجائے واپس جانے کو ترجیح دی۔

