
راولپنڈی( نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے اور مذاکرات میں ٹال مٹول کی تو پھر دھرنا پالیمنٹ کے دروازے پر ہوگا پھر ہم جعلی حکومت کو چلتا کردیں گے۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھرنے کے دوسرے روز مظاہرین نے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنے میں شریک ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں، عوام کے حالت سدھارنے کے لیے تاریخی دھرنا لے کر بیٹھے ہیں اور یہ دھرنا دو مہینے تک بھی جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور آئی پی پیز کو لگام دے کر عوام کو ریلیف نہ دیا تو پھر یہ دھرنا پھر آگے بڑھے گا پھر ڈی چوک اور پارلیمنٹ کے دروازے تک بیٹھیں گے اور پھر جعلی حکومت کو چلتا کریں گے۔انہوں نے کہا یہ دھرنا امید کا چراغ روشن کرے گا اور مایوسی کو ختم کردے گا، یہ بھیڑئیے آئی پی پیز کے نام پر خون چوستے ہیں اور یہ دھرنا ان کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کررہا ہے۔ آپ دھرنا یہاں دئیے پاکستان کے چپے چپے سے عوام امید لگائے بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو ریلیف دئیے اور آئی پی پیز کو لگام، ٹیکس ختم بغیر کیسے جاسکتے ہیں؟ حکومت نے دھرنا سے قبل راستے بند کر کے جماعت اسلامی کو روکنے اور ہمارے کارکنان کو ایمانداری سے کام کرنے والے پولیس اہلکار سے لڑانے کی کوشش کی مگر ہم نے اس منصوبے کو ناکام بنادیا کیونکہ پولیس والا بھی اب بجلی کا بل ادا نہیں کرپارہا۔انہوں نے کہا کہ ہم مذموم مقاصد پورے نہیں ہونے دئیے اور امن کو ترجیح دی، کشیدگی کو روکنے کیلیے ہم نے ایک دھرنے کو تین دھرنوں میں تقسیم کیا جبکہ ڈی چوک پر بھی دھرنا ہو چکا اور اُس میں حکومت راستے بند کر کے ہمارے کارکنان کو گرفتار کر کے شکست کھا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جدوجہد کو ترجیح دی ہے اور اب حق لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، وزیر اعظم وزرا اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ وہ کمیٹی بنائیں اور ہم دھرنا مؤخر کردیں، دھرنا موخر کردیں، مذاکرات اور دھرنا ساتھ ساتھ چلیں گے، اگر ٹال مٹول سے کام لیا پھر پیش رفت کریں گے اور ہم پھر اسلام آباد میں پہنچ کر پارلیمنٹ پہنچیں گے۔حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ کل مری روڈ پر یہ دھرنا تاریخی جلسہ عام میں تبدیل ہو جائے گا اور ہم واضح کردیں کہ اپنے دس نکاتی مطالبات سے کسی طور پر پیچھے نہیں ہٹیں گے، اب ہم فیصلہ کن جنگ کیلیے نکلے ہیں اور عوام کے جذبے کو دیکھ کر حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کل تاریخی جلسہ ہوگا سب سے اپیل ہے کہ شرکت کریں، کل بتا دوں گا کہ حکومت والے ریلیف دینے کا ڈرامہ کررہے ہیں یا واقعی انہوں نے کوئی منصوبہ بنایا ہے، اگر ڈرامہ کررہے تو پھر ہم آگے بڑھیں گے، یہ ہمیں تھکانے کی کوشش کریں گے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آپ یہ نہ سمجھیں آپ گولیاں چلاتے یہ پلان ناکام کردیا ہے، اگر حکومت ہمیں انگیج کرکے ٹھکانے لگانا چاہتی ہے تو ہمارے پاس اور بھی پلان ہیں، پھر کراچی لاہور چترال کوئٹہ پشاور گوادر سب جگہ دھرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو بجلی کے ریٹ پر غریب کو حق دینا ہوگا، مہنگائی پر ٹیکس کم کرنا ہوگا، امن و امان کے نام پر سڑکیں بند کرنا قبول نہیں کریں گے، لاپتا افراد کو ایک قانون کے مطابق آزاد اور رہا کیا جائے، ہم امن والے لوگ ہیں قوم پرستی پر یقین نہیں رکھتے، جماعت اسلامی صرف ایک قوم پر یقین رکھتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں تقسیم نہ ہو یہ ہم چاہتے ہیں، یہ پاکستان بننے کی تحریک سب جگہ چلی وہ مقامات تھے، جہنوں نے پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ ہم متحد ہو کر حقیقی پاکستان بنائیں گے، انکے خلاف متحد ہونگے جن کو انگریزوں نے جاگیریں دیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جو کمیٹی بھیج رہے ہو ہم اس سے پوچھیں گے کہ بچوں کو صحت اور تعلیم کیسے دو گے ؟کیونکہ تم ٹیکس لیتے ہو مگر دیتے کچھ بھی نہیں ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ مزدوروں کسانوں اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ، یہاں کوئی فارم 45 اور 47 نہیں ہے یہاں جماعت اسلامی ہے، جو کمیٹی آئے گی وہ سب دیکھے گی۔ ابھی سفر شروع ہوا ہے ہم بیچ میں چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔انہوں نے بتایا کہ کل سے تاجروں کے قافلے آنا شروع ہو جائیں، اس دھرنے سے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی سمیت سب امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں اس لیے کارکنان سے کہتا ہوں کہ آپ نے کسی سے نہیں لڑنا اور مایوس نہیں ہونا بس ایسے ہی ڈٹے رہنا ہے، یہ دھرنا چل پڑے گا ختم اس وقت ہوگا جب مطالبات تسلیم ہونگے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ حکومت کے سامنے رکھے جانے والے 10 مطالبات بھی سامنے آگئے۔جماعت اسلامی کا مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بھاری ٹیکسوں کے خلاف راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔دھرنے کے مقام پر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی لیاقت بلوچ کریں گے۔جماعت اسلامی کے حکومت کے سامنے رکھے جانے والے 10مطالبات سامنے آگئے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دے اور پیٹرولیم لیوی ختم اور قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لے۔جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی لائی جائے، اسٹیشنری آئٹمز پر لگائے گئے ٹیکسز فوری ختم کیے جائیں۔جماعت اسلامی کا مزید مطالبہ ہے کہ حکومتی اخراجات کم کرکے غیرترقیاتی اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگایا جائے، کیپسٹی چارجز اور آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائیگی کا معاہدہ ختم کیا جائے اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔جماعت اسلامی نے مطالبہ رکھا کہ زراعت اورصنعت پر ناجائز ٹیکس ختم اور 50 فیصد بوجھ کم کیا جائے، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کویقینی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ختم اور مراعات یافتہ طبقیکو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
