ڈھاکا(صباح نیوز) بنگلا دیش کی بھارت نواز وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے بھارت فرار کے بعد جماعت اسلامی اور بی این پی کے برسوں سے لاپتا رہنمابازیاب ہوگئے ہیں۔سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کو رہا کر دیا گیا ہے یکم جولائی سے 5اگست تک گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔ بنگلا دیش فوج کے بریگیڈئیر جنرل عبداللہ الامان اعظمی کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ عبداللہ الامان اعظمی جماعت اسلامی بنگلا دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم شہید کے صاحبزادے ہیں ۔ انہیں حسینہ واجد حکومت نے 2016ء میں اغوا کرکے غائب کرا دیا تھا، منگل کو رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ادھر جماعت اسلامی بنگلا دیش کے رہنمامیر قاسم علی شہید کے صاحبزادے بیرسٹر احمد قاسم کو 8سال کی جبری حراست کے بعد رہا کر دیا گیا۔ دیگانتا میڈیا گروپ کے مالک اور جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی کے صاحبزادے احمد قاسم کو اگست 2016میں اغوا کیا گیا تھا۔ یاد رہے میر قاسم علی کو بنگلا دیش کے نام نہاد ٹریبیونل نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔ احمد قاسم رہائی کے بعد والدہ سے ملے تو دونوں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ڈھاکا کی ایک عدالت نے کوٹا اصلاحات کی تحریک کے دوران گرفتار بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن امیر خسرو محمود چودھری اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور سمیت بی این پی اور جماعت اسلامی کے ایک ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دے دیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد سیکورٹی فورسز نے تقریباً 600 سے زائد افراد کو اغوا اور غائب کیا جن میں سے متعدد لوگوں کا تعلق حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کالعدم جماعت اسلامی سے تھا۔لاپتا افراد کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی انجمن مائر داک (ماؤں کی پکار) نامی تنظیم کی کوآرڈینیٹر سنجیدہ اسلام نے بتایا کہ ہمیں جوابات چاہئیں، کم از کم 20 خاندان ڈھاکا میں ملٹری انٹیلی جنس فورس کی عمارت کے باہر جمع ہیں اور اپنے رشتہ داروں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔
