لندن:برطانیہ میں نسل پرستی اور سفید فام انتہا پسندی کو اُچھالا دینے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور کاریں بنانے والے ادارے ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو شدید نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ ایک یعنی سابق ٹوئٹر کے سابق نائب سربراہ بروس ڈیزلے نے کہا ہے کہ اگر واقعی ایلون مسک نے برطانیہ میں سفید فام انتہا پسندی اور نسل پرستی کو بڑھاوا دینے میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے کوئی بڑا کردار ادا کیا ہے تو اُن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے چاہئیں۔
معروف برطانوی اخبار دی گارجین کے لیے ایک مضمون میں بروس ڈیزلے نے کہا کہ ایلون مسک جیسے لوگ خود کو کسی بھی معاملے میں جواب دہ نہیں سمجھتے۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ چونکہ اُن کے پاس بہت دولت ہے اس لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ کرنا چاہتے ہیں اُس سے انہیں نہ روکا جائے۔
بروس ڈیزلے نے کہا کہ بڑے کاروباری اداروں پر مختلف حوالوں سے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں جس سے مقاصد کسی حد تک حاصل ہو جاتے ہیں تاہم بہتر یہ ہے کہ کسی کو اس بات سے ڈرایا جائے کہ اُسے گرفتار کرکے جیل میں بھی ڈالا جاسکتا ہے۔ اگر کسی بھی جرم کی پاداش میں شخصی یا ذاتی نوعیت کی پابندیاں عائد کیے جانے کا خوف لاحق ہو تو کسی بھی بُرے کام کے ارتکاب سے پہلے سوچا ضرور جاتا ہے، عواقب پر غور کرکے کچھ بھی ایسا ویسا کرنے سے گریز جاتا ہے۔
مضمون میں بروس ڈیزلے نے مزید لکھا ہے کہ برطانوی معاشرے کو مکمل تباہی سے بچانے کی ایک اچھی اور معقول صورت یہ ہے کہ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سیکیورٹی سے متعلق قوانین کو بہتر بنائیں اور آن لائن سیکیورٹی کا معیار بلند کرنے سے متعلق قانون سازی کریں یا موجودہ قوانین کے سُقم دور کریں۔

