لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے ایران میں پاکستانی زائرین کی بس حادثے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے میں پاکستانی زائرین کی جانوں کے ضیاع پر دُکھ ہوا، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دُعا گو ہیں، دُکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، المناک واقعے نے قوم کو سوگوار کر دیا، جماعت اسلامی لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، حکومت پاکستان، ایرانی حکام کے ساتھ مل کر جاں بحق ہونے والے افراد کی میتیں کو جلد وطن واپس لانے کا اہتمام کرے ، زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جائے۔ دریں اثناء محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اداروں کے درمیان تصادم ملک و قوم کے لیے نقصان کا باعث، تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی آئینی و قانونی حدود میں رہتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، ملک اس وقت بحرانوں کی زد میں ہے، معیشت ڈگمگا رہی ہے، عوام دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے، سرمایہ دار پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا، سیاسی استحکام، پائیدار امن اور معاشی خوشحالی کسی بھی ملک کی ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو مل کر آگے لے کر جایا جائے، جنوبی ایشیائی خطے میں موجود دیگر اور بالخصوص ہمارے ہمسایہ ممالک ہر میدان میں ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں، حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسیوں ، کرپٹ مافیا کی لوٹ مار اور اداروں کے درمیان تصادم کی بدولت پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کا مقابلہ کرنا ہے تو آپس کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک سمت چلنا ہو گا، پاکستان کے اندر داخلی انتشار درحقیقت دشمنوں کا کام آسان کر رہا ہے، قومی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ان کو دہرانے کے بجائے آگے بڑھا جائے، ملک میں کرپشن ناسور بن چکی ہے، جو جتنا بڑا عہدے پر فائز ہے، وہ اتنا ہی بڑا چور اور کرپٹ ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس اہلیت، صلاحیت اور قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں، بد قسمتی یہ ہے کہ کرپٹ افراد ا کویک مرتبہ پھر سے ملک و قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے، جس سے ملک میں انتشار، سیاسی عدم استحکام اور انارکی بڑھے گی، اس وقت پاکستان کو ساز گار حالات کے لیے مستحکم حکومت کی اشد ضرورت ہے۔
