میرپورخاص (نمائندہ جسارت) بارشوں کے بعد مچھر کی بہتات نے لوگوں کا جینا عذاب کر دیا، جولائی میں ضلع میں ملیریا کے 4 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، بلدیاتی اداروں کی جانب سے کہیں بھی مچھر مار اسپرے نہیں کیا گیا، اسپرے ادویات کی ناپید ہے، فنڈز ہونے کے باوجود بلدیاتی ادارے سوئے ہوئے اور ملیریا کی وباء پھوٹنے کے انتظار میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلع میں جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہونے والی بارشوں کے بعد مچھروں کی بہتات ہے اور ملیریا کی وباء پھوٹنے کا اندیشہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جولائی کے مہینے میں 23 ہزار 551 مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4021 مریضوں میں ملیریا کی تشخیص ہوئی جبکہ جولائی میں ڈینگی کے 5 اور ماہ اگست میں ڈینگی کے 8 کیسز رپورٹ ہوئے۔ دریں اثناء مچھروں کی افزائش اور ملیریا کی بڑھتی ہوئی بیماری کے باوجود ضلع کی ایک میونسپل کارپوریشن، اس کی 22 یونین کمیٹیوں، 2 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز، 7 ٹاؤن کمیٹیوں اور 54 یونین کونسلوں میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مچھر مار ادویات کا اسپرے نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ڈی ایچ او میرپورخاص ڈاکٹر جے رام داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کا موسم مچھروں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہم نے میرپورخاص میں ملیریا کے ٹیسٹ کے لیے 110 سینٹرز قائم کیے ہیں، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے اسپتال میں ڈینگی کے لیے الگ وارڈ بنایا گیا ہے، اس کے باوجود ڈینگی کے مریضوں کو ان کے گھروں میں بھی رکھا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو مچھرمار ادویات فراہم کی جاتی ہے لیکن اس بار دوا کی عدم دستیابی ہے، اس لیے بلدیاتی ادارے مچھرمار ادویات خود خریدیں۔ دریں اثناء صوبائی ڈائریکٹر ملیریا کنٹرول پروگرام ڈاکٹر مشتاق شاہ لکیاری نے بتایا کہ سندھ میں رواں سال جنوری سے اگست تک ڈینگی کے 643 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی موت ہو چکی ہے، جبکہ ملیریا کے 79 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کانگو وائرس کے 2 کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک مریض کا تعلق سندھ اور دوسرے کا بلوچستان سے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے 3 اضلاع میرپورخاص، بدین اور لاڑکانہ میں 18 لاکھ مچھردانیاں انڈس اسپتال کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہیں۔
