
ممبئی (سیاسی نمائندہ) — مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑے الٹ پھیر کے اشارے مل رہے ہیں اور مہا وکاس اتحاد اب مکمل طور پر بکھرنے کی کگار پر پہنچ گیا ہے۔ ممبئی میں شیوسینا ، کانگریس اور این سی پی (شرد پوار) کی سیٹوں کی تقسیم اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بلائی گئی ہنگامی میٹنگ میں 23 ارکانِ اسمبلی نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔ اتحاد کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب اس پورے اتحاد کے مربی مانے جانے والے سینیئر لیڈر شرد پوار بھی اس میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
"پیٹھ میں چھرا گھونپنا اپنوں کی عادت بن گئی ہے”
میٹنگ کے بعد جذباتی انداز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اتحادی جماعتوں کے رویے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا:
"ہم نے ہمیشہ اتحاد کے دھرم کو نبھایا ہے اور ہر مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن اگر اپنوں کو ہی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی عادت ہو جائے، تو لڑائی کس سے لڑی جائے؟ اگر میٹنگ میں نہیں آنا تھا تو پہلے بتا دیتے، اس طرح پیٹھ پیچھے کھیل کھیلنا ٹھیک نہیں ہے۔ میں جھکنے والا نہیں ہوں، عوام سب دیکھ رہی ہے۔”
"کیا ہم واقعی ساتھ ہیں…”
پارٹی کے 6 اراکینِ پارلیمنٹ (MPs) کی علیحدگی اور حالیہ بغاوت کے بعد، شیوسینا (UBT) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے مہا وکاس اگھاڑی کی یکجہتی اور اتحاد کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میٹنگ کے دوران سوال اٹھایا:
"ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ایک ساتھ ہیں، لیکن کیا ہم واقعی ایک ساتھ ہیں؟ کیا ہم ایوان (سدن) میں مہا وکاس اگھاڑی کے روپ میں متحد ہیں؟ کیا ہم سب مل کر عوامی مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں؟”
شرد پوار اور جینت پاٹل بھی میٹنگ میں نہیں آئے
اگرچہ اندرونی ذرائع سے یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کے سپریمو شرد پوار اور سینیئر لیڈر جینت پاٹل اپنی ذاتی مصروفیات اور وجوہات کی بنا پر اس میٹنگ میں غیر حاضر رہے، اور ان کے نہ آنے کی کوئی سیاسی وجہ نہیں تھی۔
واضح رہے کہ اس وقت مہاراشٹر اسمبلی کا مانسون سیشن چل رہا ہے اور اسی دوران بدھ کی دیر شام مہا وکاس اگھاڑی کے سینیئر رہنماؤں کی یہ ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی تھی، جہاں ادھو ٹھاکرے کا یہ درد سامنے آیا ہے۔
