English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ نے کانگریس سے مانگے 87 ارب ڈالر، زیادہ تر حصہ ‘ایران جنگ’ کے لیے

القمر

واشنگٹن — خلیجِ فارس میں جاری تاریخی پٹرولیم بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی سینیٹ کی طرف سے یکطرفہ فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد کے محض چند گھنٹوں بعد، صدر ٹرمپ نے ایک حیران کن اور جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے امریکی کانگریس کو 87 ارب ڈالر کا ہنگامی بجٹ بل بھیج دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس بھاری رقم کا سب سے بڑا حصہ خلیج میں تعینات امریکی فوج، بحری بیڑوں اور ایران کے خلاف ممکنہ "فوری عسکری کارروائیوں” کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

87 ارب ڈالر کا بریک ڈاؤن: پینٹاگون کا ہائی ٹیک پلان

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والی دستاویزات اور پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس ہنگامی فنڈ کی ضرورت کو "امریکہ کے قومی مفادات کا تحفظ” قرار دیا ہے۔ اس بجٹ کو درج ذیل تین بڑے حصوں میں استعمال کیا جائے گا:

بحری راستوں کی بحالی: رقم کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کو ایرانی تسلط سے آزاد کرانے اور کارگو جہازوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے بحری آپریشنز پر خرچ ہوگا۔

پینٹاگون ہائی الرٹ: خلیجِ فارس میں امریکی فوج کے پانچویں بحری بیڑے کو جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم اور ڈرونز سے لیس کرنا۔

اتحادیوں کی مدد: مشرقِ وسطیٰ میں امریکی چھاؤنیوں اور اسرائیل جیسے قریبی اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا تاکہ ایران کے کسی بھی جوابی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

ٹرمپ کا مؤقف: "امن صرف طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے”

امریکی سینیٹ کی مخالفت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کانگریس کو بھیجے گئے خط میں لکھا:

"ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت پر حملہ کیا ہے۔ اگر ہم نے آج انہیں نہیں روکا، تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن امن صرف طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس کو بغیر کسی تاخیر کے یہ 87 ارب ڈالر منظور کرنے چاہئیں تاکہ ہماری فوج ایران کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دے سکے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے