بدین (نمائندہ جسارت) غیر سرکاری سماجی ادارے لاڑ ہیومینٹیرین اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کی جانب اور پہل پاکستان کے اشتراک سے رواں سال ملک میں پڑنی والی سخت ترین گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک پر قابو پانے اور انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں لاڑکانہ شہر میں ہیٹ ویو کے موقع پر ہیٹ اسٹروک ریلیف کیمپ قائم کرنے، گرمی سے متاثرہ افراد میں گرمی اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے کیٹس کی تقسیم اور آگاہی مہم کے اختتام پر حیدرآباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موسمیات ، آبی ، زرعی اور طبی ماہرین کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز نے خطرناک موسمی تبدیلیوں، گرمی اور ہیٹ اسٹروک پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کر کے انسانی اور دیگر حیات کے علاوہ زرعی اجناس اور جنگلات کو محفوظ بنانے پر زور دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک جانب جنگلات کے کٹاؤ اور دوسری جانب ترقی کے نام پر ماحول دشمن کارخانوں، فیکٹریوں، ایٹمی اور کوئل بجلی گھروں کے قیام سے فضائی اور آبی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ سے موسمی تبدیلیوں میں بھی خطرناک حد اضافہ سے گرمی کی شدت میں مسلسل اور خطرناک حد تک اضافے نے انسانی حیوانی اور آبی حیات کو غیر محفوظ بنا کر رکھ دیا ہے۔
