
کراچی/ اسلام آباد/ کوئٹہ/ پشاور/ لاہور/ بدین/ حیدرآباد (نمائندگان جسارت/ خبرا یجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک)ملک بھر میںشدید بارشوں بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان‘ ایک ہی خاندان کے 13افراد سمیت26افراد جاں بحق ہوگئے‘25سے زاید زخمی‘ اسنا طوفان کے باعث کراچی میں 70سے80کلو میٹر کی رفتار سے ہوائیں‘درخت اکھڑ گئے‘چھتیں اڑگئیں‘ سائن بورڈ گرنے کے واقعات‘ موسلا دھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا‘ نشیبی علاقے زیرآب آگئے‘ آج اتوار کوبھی سندھ اور بلوچستان میں تیز بارش کی پیش گوئی‘ سندھ میں لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور‘ بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پرتباہی‘10اضلاع کو آفت زدہ قراردے دیاگیا‘ہلاکتیں تودہ گرنے‘ کرنٹ لگنے اور سیلاب میں بہہ جانے کے باعث ہوئیں۔تفصیلات کے مطابق دیربالا میںمکان پرمٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 13افراد جاں بحق ہوگئے ‘ ملبے سے لاشیں نکال لی گئیں،ہسپتال منتقل ،جاں بحق ہونیوالوں میں 9بچے بھی شامل۔کراچی میں کرنٹ لگنے سے 2افراد جاں بحق ‘ جبکہ 3بری طرح جھلس گئے‘ جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔کراچی میں تیز ہوا کے باعث مختلف علاقوں میں درخت گرگئے ، جس کی زد میں آکر خاتون جاں بحق ہوگئی۔ جبکہ کورنگی میں کرنٹ لگنے سے مزدور جاں بحق ہوا ، بلدیہ رشید آباد میں تین افراد کرنٹ لگنے سے بے حوش ہوگئے حالت تشو شناک بتائی جاتی ہے ۔ترجمان ریسکیو ون ون ٹو ٹو نے بتایا کہ گلشن اقبال بیت المکرم مسجد کے قریب تیز ہواوں کے باعث درخت گرگیا جس کے نتیجے میں راہگیر خاتون 55 سالہ شمیم بی بی زوجہ عبدالمالک درخت کے نتیجے دب کر جاں بحق ہوئی۔ کورنگی 06 نمبر سیکٹر 51/A گلی نمبر 02 کے قریب گھر میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے مزدور 25 سالہ سمیر ولد عبدالرشید عمرجاں بحق ہوا۔ سائٹ ایریا رشید آباد میں پانی میںکرنٹ پھیل گیا ‘تین افراد کرنٹ لگنے سے بے حوش ہوگئے ۔ تینو ں افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ، پولیس نے شہریوں کو مذکورہ مقام پر جانے سے روک دیا۔نیوایم اے جناح روڈ پیپلزچورنگی کے قریب درخت گرنے کے باعث 25سالہ موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا فیصل آباد میںبارش سے خستہ حال چھت گر گئی، حادثہ میں بہن بھائی جاں بحق۔ بہاولنگر ،ضلع میں بارش کے سبب چھتیں دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں ایک لڑکی جاں بحق ، 6افراد زخمی ہوگئے‘گوجرانوالہ ،طوفانی بارشوں سے چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق دوزخمی ہو گئے ‘ چنیوٹ ، بارش کے باعث چھت گرنے سے ایک خاتون جاںبحق ،2 افراد زخمی ہو گئے‘ملتان میں چھت اورآسمانی بجلی گرنے سے 2افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا‘ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں بارش نے تباہی مچا دی،ضلع دیامر میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا‘ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقوں میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی ، مقامی افراد کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا۔دیر بالا میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلوں کے بعد سیاحتی مقام کْمراٹ کا زمینی رابطہ منقطع ‘وادی میں موجود سیکڑوں سیاح واحد زمینی راستہ منقطع ہونے کے بعد پھنس کر رہ گئے‘ وزیراعلیٰ کی پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت۔دادو کے علاقے گاج ندی میں طغیانی سے 2 مزدور ڈوب کر لاپتا‘ریسکیوذرائع کے مطابق دونوں مزدورں کی تلاش جاری ہے۔ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس کی وجہ سے کاچھو کی رابطہ سڑکیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ریسکیو ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کاچھو کی رابطہ سڑکیں زیرِ آب آنے سے 50 سے زائد دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔بولان میں سیلابی ریلے سے سوئی سدرن کی گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچا ،متعدد شہروں کو گیس کی سپلائی معطل‘مچھ ، سیلابی ریلا گیس پائپ لائن کو بہا لے گیا، گیس پائپ لائن متاثر ہونے سے کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین اور زیارت سمیت مختلف علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ترجمان سوئی سدرن کے مطابق سیکورٹی کلیئرنس کے بعد متاثرہ گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے 7 جون سے اب تک مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی نئی رپورٹ جاری کردی۔صوبے میں مون سون بارشوں سے مختلف واقعات میں 37 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 17 مرد، 19 بچے اور 1خاتوں شامل ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 866 مکانات مکمل تباہ ہوئے، 13896کو جزوی نقصان پہنچا، تقریباً ایک لاکھ 9 ہزار افراد متاثر ہوئے۔پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق بارشوں سے سات پل اور 58 شاہراہیں متاثر ہوئیں، بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے اور مختلف واقعات میں 401 مویشی مارے گئے، سیلابی پانی نے صوبے میں 59000 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔ بلوچستان حکومت نے صوبے کے 10 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے آفت زدہ اضلاع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس میں سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع میں قلات، زیارت، صحبت پور، لسبیلہ، آواران، کچھی جعفر آباد، اوستہ محمد، لورالائی اور چاغی بھی آفت زدہ اضلاع میں شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔مزید برآں صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ بلوچستان سے برسانی پانی کا بڑا ریلہ سندھ میں داخل ہورہا ہے جس کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔صوبائی وزیر نے سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو کے ہمراہ سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں سمیت منچھر جھیل اور ایم این وی ڈرین کا دورہ کیا۔ اس موقع پر محکمہ آبپاشی کے چیف انجنیئر مختیار ابڑو اور دیگر عملے نے صورتحال سے متعلق بریفنگ دی۔صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے نئی گاج دادو کے علاقہ کاچھو اور نئے گاج کے ساتھ کاسبو کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر جام خان شورو کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے پانی کا بڑا ریلہ سندھ میں داخل ہو رہا ہے،محکمہ آبپاشی کا عملہ مختلف بندوں کی نگرانی کر رہا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا ضلع دیر بالا میں تودہ گرنے کے باعث جانی نقصان پر اظہار افسوس ‘لواحقین سے اظہار تعزیت صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں تودہ گرنے سے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق صدر مملکت کا جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں جاں بحق افراد کے ورثا کے ساتھ ہیں۔ صدر مملکت نے جاں بحق افراد کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے دیربالا میں مٹی کا تودہ گرنے سے 12 افراد کے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہارکیاہے۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹرمحمد علی سیف نے دیر بالا واقعہ پر انتہائی دکھ وغم کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ دیر بالا میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد کے جاں بحق ہونے پر دکھ ہوا، دکھ اور غم کی اس گھڑی میں سوگواران کے ساتھ ہیں۔
