English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اقوام متحدہ کا مشن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیےبنگلہ دیش جائے گا

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعے کے روز کہا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی درخواست پر وہ ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بنگلہ دیش روانہ کرے گا تاکہ اس ملک میں حالیہ مہلک تشدد کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جاسکے۔

پچھلے مہینے کے حکومت مخالف مظاہروں نے، جو پبلک سیکٹر میں ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف طالب علموں کی قیادت میں ایک بڑی تحریک کے طور پر شروع ہوئے تھے، 1971 میں ملک کی آزادی کے بعد سب سے مہلک تشدد کی شکل اختیار کر لی تھی۔

ڈھاکہ یونیورسٹی، جہاں سے بنگلہ دیش میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا





please wait



No media source currently available

بدامنی کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور وزیر اعظم شیخ حسینہ استعفیٰ دینے اور 5 اگست کو بھارت فرار ہونے پر مجبور ہوگئیں۔ ان کے فرار کے بعد بھی کئی دنوں تک تشدد جاری رہا۔

نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت نے حسینہ انتظامیہ کی جگہ سنبھال لی ہے جس نے ایک ایسے وقت میں تشدد کو روکنے میں مدد کی جب سیکورٹی فورسز بھی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں شامل تھیں۔


محمد یونس عبوری انتظامیہ کی سربراہی کے لیے فرانس سے واپس بنگلہ دیش آئے ہیں۔

محمد یونس عبوری انتظامیہ کی سربراہی کے لیے فرانس سے واپس بنگلہ دیش آئے ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم

"ہمارا دفتر آنے والے ہفتوں میں ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بنگلہ دیش میں تعینات کرے گا جس کا مقصد مظاہروں کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کی رپورٹنگ، بنیادی وجوہات کا تجزیہ اور انصاف اور احتساب کو آگے بڑھانے اور طویل مدتی اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینہ شامداسانی نے ایک بیان میں کہا۔

یہ فیصلہ 22 سے 29اگست تک اقوام متحدہ کی ایک ٹیم کے ڈھاکہ کے دورے کے بعد کیا گیا ہے۔ ، جس کے دوران انہوں نے عبوری حکومت کے ارکان سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کی تھی۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یو این کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے جبری گمشدگی سے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن میں بنگلہ دیش کی حالیہ شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک قومی کمیشن کے قیام کی بھی تعریف کی، جو بنگلہ دیش میں ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔

شمداسانی نے کہا، "ہم کمیشن کو اس کے کام میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں، جسے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ قریبی مشاورت کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔”

یہ رپورٹ رائٹرز کی اطلاعات پر مبنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے