
گوادر (نمائندہ جسارت) بجلی بحران اور کنٹانی بارڈر بندشا کے خلاف حق دو تحریک بلوچستان کا پریس کلب پر احتجاج، بجلی بحران ریاست کی پیدا کردہ ہے، 5 ستمبر کو کوسٹل ہائی وے بند کرنے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق حق دو تحریک کی جانب سے بجلی بحران اور کنٹانی بارڈر بندش کے خلاف پریس کلب پر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جس پر مختلف نعرے درج تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حفیظ کھیاز اور گوادر کے رہنما بابر شہزاد نے کہا کہ گوادر سمیت مکران میں بجلی بحران خود ساختہ ہے، جان بوجھ کر سازش کے تحت بجلی کا خود ساختہ بحران پیدا کیاگیا تاکہ لوگ پریشان ہوں۔ ہم بھی اسی ملک کے باشندے ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں بجلی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست شاید یہ سمجھتی ہے کہ بلوچوں کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم کریں گے، انہیں پریشان کریں گے تو بلوچ اپنی سرزمین چھوڑ کر چلے جائیں گے، یہ ریاست کی بھول ہے، بلوچ نہ ڈرنے والی قوم ہے، نہ جھکنے والی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام کو ہر حال میں بجلی چاہیے، اگر ہمیں بجلی نہ دی گئی تو میرین ڈرائیو اور کوسٹل ہائی وے بند کر دیں گے۔ بلوچ قوم کو باقاعدہ ٹریک کیا جا رہا ہے لیکن ہم اپنی سرزمین کسی طور پر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی میگا واٹ کے نام پر تو کبھی ایران کے نام پر، بجلی بند کرکے لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے، سرکار ہر جگہ، ہر فورم پر گوادر کی ترقی کی بات کرتی ہے، گوادر کی ترقی یہی ہے کہ بجلی رات 4 بجے آتی ہے اور پورا دن بند ہوتی ہے، ہم ترقی کے خلاف نہیں لیکن جو ترقی بلوچ کو ذہنی غلام بنائے ہمیں ایسی ترقی ہرگز قبول نہیں، ترقی یہی ہے کہ بلوچ قوم روزانہ، پانی، بجلی اور روزگار کے لیے احتجاج کرے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام روزگار کے ذریعے صرف دو ہیں، ایک سمندر ہے، دوسرا بارڈر، سمندر کو تو ٹرالروں نے پہلے ہی بانجھ بنادیا ہے، اب کنٹانی بارڈر پر بھی آئے روز نئے نئے قوانین بناکر لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، کنٹانی روزگار کی بندش پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، کنٹانی بارڈر پر بھتا خوری اور بدمعاشی کا سلسلہ بند کیا جائے، کنٹانی کی بندش سے لوگ بے روزگار ہیں جس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر فوری پانی، بجلی اور کنٹانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو 5 ستمبر کو کوسٹل ہائی وے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیں گے۔
