کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) کشمور تھانہ کی حدود فاروقی باغ کے قریب گاؤں خیر محمد چانڈیو میں مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، گولیاں لگنے سے کمال چانڈیو موقع پر جاں بحق جبکہ گلشیر چانڈیو زخمی ہو گئے، واقعے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع پر حدود تھانہ کی پولیس نے لاش اور زخمی کو اسپتال پہنچایا جہاں زخمی کو طبی امداد فراہم کی گئی، لاش ضروری قانونی کاغذی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی، ورثاء نے لاش انڈس ہائی وے پر رکھ کر دھرنا دے دیا، دھرنے کی وجہ سے سندھ سے دیگر صوبوں کی طرف آنے جانے والی ٹریفک معطل ہو گئی، روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے، جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔ دھرنے میں اے ایس پی رانا دلاور نے مظاھرین سے مذاکرات کر کے جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کروا کر دھرنا ختم کروایا جس کے بعد ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ چانڈیو برادری کے 2 فریقین میں چلنے والی دیرینہ دشمنی کے باعث واقعہ پیش آیا ہے، جبکہ مسلح افراد گھر خالی کر کے فرار ہو گئے ہیں، ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا، آخری اطلاع تک پولیس واقعہ کا مقدمہ درج نہ کر سکی اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے۔
